Poetry
- خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہےمحبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہےZabt Ansari
- رہا روشن ہمیشہ مطلع فکر و نظر اپناہتھیلی کا چراغ اور دار کا سورج ہے سر اپناZabt Ansari
- شب بھر تصورات کا میلہ لگا رہاسب سو گئے تو گھر میں مرے رتجگا رہاZabt Ansari
- غم چھپاؤں کہ آشکار کروںکون سی وضع اختیار کروںZabt Ansari
- کیسی بلبل کہاں کے پروانےتم سلامت ہزار دیوانےZabt Ansari
- گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہےہائے وہ غیر جو اپنوں کی طرح ملتا ہےZabt Ansari
- محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےخدا رکھے یہ ہشیاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہےZabt Ansari
- میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہاکہ روح بن کے رہا میں جس انجمن میں رہاZabt Ansari
- نہیں ہے فکر تجھے فکر ماسوا کے سواہزار بت ہیں ترے دل میں اک خدا کے سواZabt Ansari
- ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلوکہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلوZabt Ansari
- ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئیشاید اب حسن کے ترکش میں نہیں تیر کوئیZabt Ansari