کیسی بلبل کہاں کے پروانے

Zabt Ansari

کیسی بلبل کہاں کے پروانے

تم سلامت ہزار دیوانے

ہائے کیا کیا بنائے دنیا نے

اک محبت کے لاکھ افسانے

تیری برہم نگاہ کے صدقے

آنکھ بدلی ہوئی ہے دنیا نے

ہم نے دیکھی ہے زندگی کی بہار

ہم سے پوچھو خزاں کے افسانے

اس تغافل پہ ان کو کیا کہئے

میرے ہو کر مجھے نہ پہچانے

ساری رونق تھی شمع محفل تک

اب نہ ساقی نہ مے نہ پروانے

لاکھ دانا سہی مگر واعظ

منصب عاشقی کو کیا جانے

جن میں آزادیٔ جنوں ہی نہ ہو

میرے قابل نہیں وہ ویرانے

اتنی بوجھل ہے ضبطؔ زلف حیات

آدمیت کے رہ گئے شانے