گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہے

Zabt Ansari

گھپ اندھیرے میں اجالوں کی طرح ملتا ہے

ہائے وہ غیر جو اپنوں کی طرح ملتا ہے

اپنے رہتے ہیں کناروں کی طرح دور ہی دور

غیر اب ٹوٹ کے موجوں کی طرح ملتا ہے

کون کہتا ہے کہ میں بھول گیا ہوں اس کو

میری آنکھوں سے جو خوابوں کی طرح ملتا ہے

حسن اس دور میں ارزاں ہے سر کوچہ و بام

عشق اب پردہ نشینوں کی طرح ملتا ہے

وقت آئینہ کردار و عمل ہے گویا

یہی دشمن یہی یاروں کی طرح ملتا ہے

کیسے کہئے کہ یہی چہرہ ہے اصلی چہرہ

ہر ریاکار فقیروں کی طرح ملتا ہے

دل جب اخلاص کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے

لطف نیکی میں گناہوں کی طرح ملتا ہے

ہر طلب گار یہ معیار عطا کیا جانے

غم بھی اس بزم میں تحفوں کی طرح ملتا ہے

نہ کھلا ضبطؔ کی افتاد طبیعت کا طلسم

پارسا لگتا ہے رندوں کی طرح ملتا ہے