میں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہا
Zabt Ansariمیں شاخ شاخ پہ مہکا کرن کرن میں رہا
کہ روح بن کے رہا میں جس انجمن میں رہا
اسیر کشمکش دور پر محن میں رہا
وہ آفتاب ہوں جو مدتوں گہن میں رہا
خلوص عشق کی محرومیاں معاذ اللہ
میں عمر بھر تہی دامن بھرے چمن میں رہا
نگاہ محو تماشا لبوں پہ مہر سکوت
میں آئنے کی طرح تیری انجمن میں رہا
کسی سے عہد محبت پہ جب بھی غور کیا
اک ارتعاش سا پہروں مرے بدن میں رہا
ترے بغیر کہیں بھی تو جی بہل نہ سکا
میں چین سے کبھی گھر میں رہا نہ بن میں رہا
مہیب اتنا کہ وہ جلوہ برق طور بنا
لطیف اتنا کہ پھولوں کے پیرہن میں رہا
زباں سلیس بیاں دل نواز فکر جمیل
یہ اہتمام ہمیشہ مرے سخن میں رہا
وہ دوستوں کے عزائم سے ضبطؔ کیا بچتا
جو دشمنوں کی طرف سے بھی حسن ظن میں رہا