ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئی

Zabt Ansari

ہے مرے سامنے میرے لئے دلگیر کوئی

شاید اب حسن کے ترکش میں نہیں تیر کوئی

جذبۂ شوق کی دیکھے مرے تاثیر کوئی

بن کے آیا ہے مرے شعر کی تفسیر کوئی

جرم الفت کی سزا دار و رسن تک محدود

اور کچھ اس سے سوا چاہئے تعذیر کوئی

آئنہ بن کے تری بزم میں سب کچھ دیکھا

اور خاموش رہا صورت تصویر کوئی

میری وحشت سے ہے زنداں میں جو اک حشر بپا

آ کے تھوڑی سی گھٹا دے مری زنجیر کوئی

ایک ہی بات پہ چہروں کے بدل جانے سے

قابل داد کوئی لائق تعزیر کوئی

ہیں مری نوک مژہ پر بھی نگاہیں سب کی

آنکھ کا اپنی نہیں دیکھتا شہتیر کوئی

ضبطؔ وہ ندرت گفتار ملی ہے مجھ کو

شوق سے سنتا ہے اکثر مری تقریر کوئی