Poetry
- آپ ہیں کیا ملک صفت آپ ہیں کیا پتا نہیںہم تو گناہ گار ہیں ہم کوئی پارسا نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- اک بھلا کام کوئی کر کے دکھاؤ تو سہیکوئی گرتی ہوئی دیوار اٹھاؤ تو سہیYas Chandpuri (b. 1930)
- پر خطر راہ اگر ہو تو سفر مت کیجےزندگی زیر و زبر ہو تو سفر مت کیجےYas Chandpuri (b. 1930)
- جب تیرے سوا کوئی مرے کام نہ آئےکیوں لب پہ محبت سے ترا نام نہ آئےYas Chandpuri (b. 1930)
- خلوص پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیںدلوں کے بیچ وہ پہلا سا رابطہ بھی نہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- خود کو اعلیٰ صفات لکھ دیتےکچھ تو وہ دل کی بات لکھ دیتےYas Chandpuri (b. 1930)
- دلوں میں مدحت رحمان ہم بھی رکھتے ہیںوقار عظمت قرآن ہم بھی رکھتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- دنیا کی لذتوں سے مفر کر رہا ہوں میںبس سادگی سے عمر بسر کر رہا ہوں میںYas Chandpuri (b. 1930)
- رہزن رہبر ہو جاتے ہیںکم تر برتر ہو جاتے ہیںYas Chandpuri (b. 1930)
- سب کے ہاتھوں میں آج پتھر ہےاور نشانے پہ بس مرا سر ہےYas Chandpuri (b. 1930)
- کسی پہ قہر کسی پہ عتاب ہو کے رہاکسی پہ لطف ترا بے حساب ہو کے رہاYas Chandpuri (b. 1930)
- مری نگاہ میں سود و زیاں نہیں کچھ بھیوہاں ملے گا اگرچہ یہاں نہیں کچھ بھیYas Chandpuri (b. 1930)
- ہائے کیسا یہ زمانے کا اثر لگتا ہےجس کو دیکھو وہی افسردہ بشر لگتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)
- ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ایسا عمل اغیار کریں گےجینا بھی دشوار کریں گے مرنا بھی دشوار کریں گےYas Chandpuri (b. 1930)
- یقیناً کوئی گہرا رابطہ ہےوہ جو مڑ مڑ کے مجھ کو دیکھتا ہےYas Chandpuri (b. 1930)