Poetry
- آم موقعوں پہ نہ آنکھوں میں ابھارے آنسوہجر جس سے بھی ہو پر تجھ پہ ہی وارے آنسوVikram Sharma (b. 1994)
- اہل دنیا نیا نیا ہوں میںمعذرت خواب دیکھتا ہوں میںVikram Sharma (b. 1994)
- ایک خاموشی نے صدا پائیڈھائی حرفوں میں پھر وہ ہکلائیVikram Sharma (b. 1994)
- جن سے اٹھتا نہیں کلی کا بوجھان کے کندھوں پہ زندگی کا بوجھVikram Sharma (b. 1994)
- دشت میں یار کو پکارا جائےقیس صاحب کا روپ دھارا جائےVikram Sharma (b. 1994)
- سوچتا ہوں کہ دل زار کا مطلب کیا ہےایک ہنستے ہوئے بیمار کا مطلب کیا ہےVikram Sharma (b. 1994)
- کون نکلے گھر سے باہر رات میںسو گئے ہم اپنے اندر رات میںVikram Sharma (b. 1994)
- کوئی آغاز میں انجام بتا جاتا ہےاور پھر پوری کہانی کا مزہ جاتا ہےVikram Sharma (b. 1994)
- مری عادت ہے میں ہر راہبر سے بات کرتا ہوںگزرتا ہوں جو رستے سے شجر سے بات کرتا ہوںVikram Sharma (b. 1994)
- مشورہ ہے یہ بہتری کے لیےہم بچھڑ جاتے ہیں ابھی کے لئےVikram Sharma (b. 1994)
- یہ کیسے سانحے اب پیش آنے لگ گئے ہیںتیرے آغوش میں ہم چھٹ پٹانے لگ گئے ہیںVikram Sharma (b. 1994)