Poetry
- چاہتا ہے کوئی اگر اڑناتو ضروری ہے اس کا ڈر اڑناVijay kumar Swarnkar
- روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاسدیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاسVijay kumar Swarnkar
- سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیںاب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیںVijay kumar Swarnkar
- فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیاVijay kumar Swarnkar
- کٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہےایک چڑیا گھونسلہ لے کر کھڑی ہےVijay kumar Swarnkar
- کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہےاس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہےVijay kumar Swarnkar
- ہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھےلوگ لوہا بھی نہ تھے جس وقت ہم فولاد تھےVijay kumar Swarnkar
- یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھرکہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھرVijay kumar Swarnkar