Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اشک پر گداز‌ دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  2. اضطراب خود نمائی و حیا میں فرق ہےہم سمجھتے ہیں جو ان کی ہر ادا میں فرق ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  3. ان کے اس کفر بیاں سے کتنے افسانے بنے ہیںآپ دیوانے نہیں ہیں آپ دیوانے بنے ہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  4. اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریںآؤ مل جل کر بہار بے خزاں پیدا کریںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  5. بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہےاب جو اپنا حشر ہونا ہے ہمیں معلوم ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  6. بے نیازی کی اک شان بن جائیےمجھ سے دانستہ انجان بن جائیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  7. پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہےآغاز بھی یہی تھا انجام بھی یہی ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  8. تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھییوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھیUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  9. تلخئ غم مرے احساس کا سرمایا ہےحسن سے میں نے یہ انعام وفا پایا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  10. چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرناخواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرناUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  11. خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہےمجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  12. دل نے ٹھوکر کھا کے سمجھا حادثا کیا چیز ہےغم کسے کہتے ہیں درد لا دوا کیا چیز ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  13. رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  14. عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  15. فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنےیہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  16. کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیںبرف کی سل سے نکلتا ہوا شعلہ دیکھیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  17. گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سےلیکن مفر نہیں ہے احساس کی چبھن سےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  18. مجھ کو مجبور سرکشی کہیےآپ اندھیرے کو روشنی کہیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  19. مسکرائیں مسکرائیں مسکرائیں میرے ساتھآپ دنیا کو یہ آئینہ دکھائیں میرے ساتھUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  20. ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  21. یہ مری ایجاد اظہار تمنا دیکھیےشبنمی آنکھوں کا در پردہ تقاضا دیکھیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  22. اس دلبری کی شان کے قربان جائیےاب دل دہی کو آئے ہیں جب دل نہیں رہاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  23. قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
  24. گیا قریب جو پروانہ رہ گیا جل کرجمال خاص حدوں تک جمال ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)