Poetry
- اشک پر گداز دل حاشیہ چڑھاتا ہےاک ذرا سے قصہ کو داستاں بناتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اضطراب خود نمائی و حیا میں فرق ہےہم سمجھتے ہیں جو ان کی ہر ادا میں فرق ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- ان کے اس کفر بیاں سے کتنے افسانے بنے ہیںآپ دیوانے نہیں ہیں آپ دیوانے بنے ہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اہتمام رنگ و بو سے گلستاں پیدا کریںآؤ مل جل کر بہار بے خزاں پیدا کریںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- بند ہیں دل کے دریچے روشنی معدوم ہےاب جو اپنا حشر ہونا ہے ہمیں معلوم ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- بے نیازی کی اک شان بن جائیےمجھ سے دانستہ انجان بن جائیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- پائے طلب کی منزل اب تک وہی گلی ہےآغاز بھی یہی تھا انجام بھی یہی ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھییوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھیUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- تلخئ غم مرے احساس کا سرمایا ہےحسن سے میں نے یہ انعام وفا پایا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- چاند تاروں کا ترے روبرو سجدہ کرناخواب دیکھا ہے تو کیا خواب کا چرچا کرناUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- خواب کا عکس کہاں خواب کی تعبیر میں ہےمجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- دل نے ٹھوکر کھا کے سمجھا حادثا کیا چیز ہےغم کسے کہتے ہیں درد لا دوا کیا چیز ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- رفتہ رفتہ دل بے تاب ٹھہر جائے گارفتہ رفتہ تری نظروں کا اثر جائے گاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- عشق کے ہاتھوں میں پرچم کے سوا کچھ بھی نہیںاس کا عالم تیرے عالم کے سوا کچھ بھی نہیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- فکر بیش و کم نہیں ان کی رضا کے سامنےیہ مجھے تسلیم ہے ارض و سما کے سامنےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- کاش اس بت کو بھی ہم وقف تمنا دیکھیںبرف کی سل سے نکلتا ہوا شعلہ دیکھیںUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- گو دور ہو چکا ہوں یاران انجمن سےلیکن مفر نہیں ہے احساس کی چبھن سےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- مجھ کو مجبور سرکشی کہیےآپ اندھیرے کو روشنی کہیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- مسکرائیں مسکرائیں مسکرائیں میرے ساتھآپ دنیا کو یہ آئینہ دکھائیں میرے ساتھUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- ہر قدم پر مجھے لغزش کا گماں ہوتا ہےچشم ساقی کی نوازش کا گماں ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- یہ مری ایجاد اظہار تمنا دیکھیےشبنمی آنکھوں کا در پردہ تقاضا دیکھیےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- اس دلبری کی شان کے قربان جائیےاب دل دہی کو آئے ہیں جب دل نہیں رہاUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- قدم قدم پہ میں سنبھلا ہوں ٹھوکریں کھا کریہ ٹھوکروں نے بتایا غلط روی کیا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)
- گیا قریب جو پروانہ رہ گیا جل کرجمال خاص حدوں تک جمال ہوتا ہےUrooj Zaidi Badayuni (1912–1987)