Poetry
- آج اچانک پھر یہ کیسی خوشبو پھیلی یادوں کیدل کو عادت چھوٹ چکی تھی مدت سے فریادوں کیUnwan Chishti (1937–2004)
- بچے بھی اب دیکھ کے اس کو ہنستے ہیںاس کے منہ پر رنگ برنگے سائے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- تعصب کی فضا میں طعنۂ کردار کیا دیتامنافق دوستوں کے ہاتھ میں تلوار کیا دیتاUnwan Chishti (1937–2004)
- جب زلف شریر ہو گئی ہےخود اپنی اسیر ہو گئی ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- حسن سے آنکھ لڑی ہو جیسےزندگی چونک پڑی ہو جیسےUnwan Chishti (1937–2004)
- رات کئی آوارہ سپنے آنکھوں میں لہرائے تھےشاید وہ خود بھیس بدل کر نیند چرانے آئے تھےUnwan Chishti (1937–2004)
- رہنے دے تکلیف توجہ دل کو ہے آرام بہتہجر میں تیری یاد بہت ہے غم میں تیرا نام بہتUnwan Chishti (1937–2004)
- زندہ باد اے دشت کے منظر زندہ بادشہر میں ہے جلتا ہوا ہر گھر زندہ بادUnwan Chishti (1937–2004)
- ساری دنیا میں دانہ ہے اپنے گھر میں کچھ بھی نہیںایسا لگتا ہے اب اس کے کیسۂ زر میں کچھ بھی نہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- عشق پھر عشق ہے آشفتہ سری مانگے ہےہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہےUnwan Chishti (1937–2004)
- کسی کے فیض قرب سے حیات اب سنور گئینفس نفس مہک اٹھا نظر نظر نکھر گئیUnwan Chishti (1937–2004)
- کہتے ہیں ازل جس کو اس سے بھی کہیں پہلےایمان محبت پر لائے تھے ہمیں پہلےUnwan Chishti (1937–2004)
- مرے شانوں پہ ان کی زلف لہرائی تو کیا ہوگامحبت کو خنک سائے میں نیند آئی تو کیا ہوگاUnwan Chishti (1937–2004)
- وہ مسکرا کے محبت سے جب بھی ملتے ہیںمری نظر میں ہزاروں گلاب کھلتے ہیںUnwan Chishti (1937–2004)
- یہ حادثوں کا نیا سلسلہ لگے ہے مجھےخود اپنے آپ میں کچھ ٹوٹتا لگے ہے مجھےUnwan Chishti (1937–2004)
- آپ سے چوک ہو گئی شایدآپ اور مجھ پہ مہرباں کیا خوبUnwan Chishti (1937–2004)
- وہ حادثے بھی دہر میں ہم پر گزر گئےجینے کی آرزو میں کئی بار مر گئےUnwan Chishti (1937–2004)