Poetry
- اب تو چراغ فکر جلاتا نہیں کوئیسوز یقیں کی بزم سجاتا نہیں کوئیTabish Mehdi (b. 1951)
- اور سمت سفر راستہ اور ہےعہد حاضر کا شاید خدا اور ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- بلا سے مرتبے اونچے نہ رکھناکسی دربار سے رشتے نہ رکھناTabish Mehdi (b. 1951)
- جہان دل میں سناٹا بہت ہےسمندر آج کل پیاسا بہت ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- خطا میں نے کوئی بھاری نہیں کیامیر شہر سے یاری نہیں کیTabish Mehdi (b. 1951)
- دشت تنہائی بادل ہوا اور میںروز و شب کا یہی سلسلا اور میںTabish Mehdi (b. 1951)
- روشنی آدمی تیرگی آدمیزندگی آدمی موت بھی آدمیTabish Mehdi (b. 1951)
- کچھ تو دنیا سے کما لے جائیےہم فقیروں کی دعا لے جائیےTabish Mehdi (b. 1951)
- کنایتاً بھی ترا نام جب سنا میں نےوفور شوق میں سر کو جھکا دیا میں نےTabish Mehdi (b. 1951)
- نیند کا رس فضا میں گھولو ہواے میاں کیا زبان بولو ہوTabish Mehdi (b. 1951)
- یادوں کی قندیل جلانا کتنا اچھا لگتا ہےخوابوں کو پلکوں پہ سجانا کتنا اچھا لگتا ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- یوں تو مرا اس سے کوئی پردہ بھی نہیں ہےلیکن کبھی میں نے اسے دیکھا بھی نہیں ہےTabish Mehdi (b. 1951)
- تکوگے راہ سہاروں کی تم میاں کب تکقدم اٹھاؤ کہ تقدیر انتظار میں ہےTabish Mehdi (b. 1951)