Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنی فرحت کے دن اے یار چلے آتے ہیںکیفیت پر گل رخسار چلے آتے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  2. انس ہے خانۂ صیاد سے گلشن کیساناز پرورد قفس ہوں میں نشیمن کیساTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  3. باغ میں پھولوں کو روند آئی سواری آپ کیکس قدر ممنون ہے باد بہاری آپ کیTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  4. تا سحر کی ہے فغاں جان کے غافل مجھ کورات بھر آج پکارا ہے مرا دل مجھ کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  5. جوش پر تھیں صفت ابر بہاری آنکھیںبہ گئیں آنسوؤں کے ساتھ ہماری آنکھیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  6. دل جل کے رہ گئے ذقن رشک ماہ پراس قافلہ کو پیاس نے مارا ہے چاہ پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  7. دو دموں سے ہے فقط گور غریباں آبادتم ہمیشہ رہو اے حسرت و ارماں آبادTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  8. سوئے دریا خندہ زن وہ یار جانی پھر گیاموتیوں کی آبرو پر آج پانی پھر گیاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  9. کب اپنی خوشی سے وہ آئے ہوئے ہیںمرے جذب دل کے بلائے ہوئے ہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  10. محفل سے اٹھانے کے سزا وار ہمیں تھےسب پھول ترے باغ تھے اک خار ہمیں تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  11. منہ جو فرقت میں زرد رہتا ہےکچھ کلیجہ میں درد رہتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  12. نہ ڈرے برق سے دل کی ہے کڑی میری آنکھاس کی زنجیر طلائی سے لڑی میری آنکھTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  13. یاد ایام کہ ہم رتبۂ رضواں ہم تھےباغبان چمن محفل جاناں ہم تھےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  14. آمد آمد ہے خزاں کی جانے والی ہے بہارروتے ہیں گل زار کے در باغباں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  15. بڑھتے بڑھتے آتش رخسار لو دینے لگیرفتہ رفتہ کان کے موتی شرارے ہو گئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  16. بہت مضر دل عاشق کو آہ ہوتی ہےاسی ہوا سے یہ کشتی تباہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  17. تمام عمر کمی کی کبھی نہ پانی نےعجب کریم کی رحمت ہے دیدۂ تر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  18. جلوں گا میں کہ دل اس بت کا غیر پر آیااڑے گی آگ کہ پتھر گرا ہے پتھر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  19. چراغ داغ میں دن سے جلائے بیٹھا ہوںسنا ہے جو شب فرقت سیاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  20. صاف دیکھا ہے کہ غنچوں نے لہو تھوکا ہےموسم گل میں الٰہی کوئی دلگیر نہ ہوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  21. گیا شباب پر اتنا رہا تعلق عشقدل و جگر میں تپک گاہ گاہ ہوتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  22. مجھ سے کیا پوچھتے ہو داغ ہیں دل میں کتنےتم کو ایام جدائی کا شمار آتا ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  23. مجھ سے لاکھوں خاک کے پتلے بنا سکتا ہے تومیں کہاں سے ایک تیرا سا خدا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  24. مجھے ہے فکر خط بھیجا ہے جب سے اس گل تر کوہزاروں بلبلیں روکیں گی رسی میں کبوتر کوTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  25. منتظر تیرے ہیں چشم خوں فشاں کھولے ہوئےبیٹھے ہیں دل بیچنے والے دکاں کھولے ہوئےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  26. موج دریا سے بلا کی چاہئے کشتی مجھےہو جو بالکل نا موافق وہ ہوا پیدا کروںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  27. میں باغ میں ہوں طالب دیدار کسی کاگل پر ہے نظر دھیان میں رخسار کسی کاTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  28. نجد سے جانب لیلیٰ جو ہوا آتی ہےدل مجنوں کے دھڑکنے کی صدا آتی ہےTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  29. وہ انتہا کے ہیں نازک میں سخت جاں ہوں کمالعجب طرح کی مصیبت پڑی ہے خنجر پرTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)
  30. وہ کھڑے کہتے ہیں میری لاش پرہم تو سنتے تھے کہ نیند آتی نہیںTaashshuq Lakhnavi (1824–1892)