Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کامطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کاشیر سنگھ ناز دہلوی
  2. حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہےنظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
  3. دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کرزرد ہو جاتی ہے جس کو شمع محفل دیکھ کرشیر سنگھ ناز دہلوی
  4. دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہاجہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہاشیر سنگھ ناز دہلوی
  5. زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہےسانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
  6. زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہےچلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
  7. شب فراق جو دل میں خیال یار رہاپس فنا بھی تصور میں انتظار رہاشیر سنگھ ناز دہلوی
  8. قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہواجو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہواشیر سنگھ ناز دہلوی
  9. کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھدیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھشیر سنگھ ناز دہلوی
  10. کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیںناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیںشیر سنگھ ناز دہلوی
  11. کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گاکچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گاشیر سنگھ ناز دہلوی
  12. وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتےصراحی رقص میں گردش میں پیمانے نہیں آتےشیر سنگھ ناز دہلوی
  13. وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میںکہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میںشیر سنگھ ناز دہلوی
  14. وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیںبڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیںشیر سنگھ ناز دہلوی