Poetry
- باتوں میں ڈھونڈتے ہیں وہ پہلو ملال کامطلب یہ ہے کہ ذکر نہ آئے وصال کاشیر سنگھ ناز دہلوی
- حجاب راز فیض مرشد کامل سے اٹھتا ہےنظر حق آشنا ہوتی ہے پردہ دل سے اٹھتا ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
- دل دیا ہے ہم نے بھی وہ ماہ کامل دیکھ کرزرد ہو جاتی ہے جس کو شمع محفل دیکھ کرشیر سنگھ ناز دہلوی
- دم اخیر بھی ہم نے زباں سے کچھ نہ کہاجہاں سے اٹھ گئے اہل جہاں سے کچھ نہ کہاشیر سنگھ ناز دہلوی
- زلف جاناں پہ طبیعت مری لہرائی ہےسانپ کے منہ میں مجھے میری قضا لائی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
- زندگی نام ہے جس چیز کا کیا ہوتی ہےچلتی پھرتی یہ زمانے کی ہوا ہوتی ہےشیر سنگھ ناز دہلوی
- شب فراق جو دل میں خیال یار رہاپس فنا بھی تصور میں انتظار رہاشیر سنگھ ناز دہلوی
- قلزم الفت میں وہ طوفان کا عالم ہواجو سفینہ دل کا تھا درہم ہوا برہم ہواشیر سنگھ ناز دہلوی
- کثرت وحدانیت میں حسن کی تنویر دیکھدیدۂ حق بیں سے رنگ عالم تصویر دیکھشیر سنگھ ناز دہلوی
- کچھ اشارے وہ سر بزم جو کر جاتے ہیںناوک ناز کلیجے میں اتر جاتے ہیںشیر سنگھ ناز دہلوی
- کیا خبر تھی کوئی رسوائے جہاں ہو جائے گاکچھ نہ کہنا بھی مرا حسن بیاں ہو جائے گاشیر سنگھ ناز دہلوی
- وہ جب تک انجمن میں جلوہ فرمانے نہیں آتےصراحی رقص میں گردش میں پیمانے نہیں آتےشیر سنگھ ناز دہلوی
- وہ جھنکار پیدا ہے تار نفس میںکہ ہے نغمہ نغمہ مری دسترس میںشیر سنگھ ناز دہلوی
- وہ حد سے دور ہوتے جا رہے ہیںبڑے مغرور ہوتے جا رہے ہیںشیر سنگھ ناز دہلوی