Poetry
- اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتاکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتاصفی اورنگ آبادی
- اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیرینہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیریصفی اورنگ آبادی
- اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیںغرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پرکم بخت تجھے چھوڑ دیا ہم نے خدا پرصفی اورنگ آبادی
- بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گےہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گےصفی اورنگ آبادی
- بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میںطبیعت ایسی بنتی ہے تو بنتی ہے محبت میںصفی اورنگ آبادی
- پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیاصفی اورنگ آبادی
- ترا بے مدعا مانگے دعا کیامرض ہے تندرستی میں دوا کیاصفی اورنگ آبادی
- تیرے قول و قرار کی باتیںکچھ نہیں اعتبار کی باتیںصفی اورنگ آبادی
- جب ترا انتظار ہوتا ہےدل بہت بے قرار ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتامثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتاصفی اورنگ آبادی
- چھوڑ ہر ایک کو برا کہناایسی صورت پہ تجھ کو کیا کہناصفی اورنگ آبادی
- خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کاصفی اورنگ آبادی
- خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میںآج کل کچھ نیا نیا ہوں میںصفی اورنگ آبادی
- دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیاصفی اورنگ آبادی
- درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئیصفی اورنگ آبادی
- دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہااک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہاصفی اورنگ آبادی
- دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیااچھا ہوا خلش گئی کانٹا نکل گیاصفی اورنگ آبادی
- دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیںکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہےصفی اورنگ آبادی
- سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میںمیں بے پیے بھی مست ہوں اب کی بہار میںصفی اورنگ آبادی
- شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیاجو گزر گئی وہ گزر گئی جو گزر گیا وہ گزر گیاصفی اورنگ آبادی
- شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سےصفی اورنگ آبادی
- عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیاصفی اورنگ آبادی
- کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھوکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھوصفی اورنگ آبادی
- کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میںصفی اورنگ آبادی
- گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوشخدا رکھے اسے اس سے سوا خوشصفی اورنگ آبادی
- نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دیناصفی اورنگ آبادی
- نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتناصفی اورنگ آبادی
- وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہواکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہواصفی اورنگ آبادی
- وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہےمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگصفی اورنگ آبادی
- یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھیصفی اورنگ آبادی
- اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہمکل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہمصفی اورنگ آبادی
- جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہیبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہیصفی اورنگ آبادی
- یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملانہ ملا ہاں وہ بے وفا نہ ملاصفی اورنگ آبادی