Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتاکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتاصفی اورنگ آبادی
  2. اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیرینہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیریصفی اورنگ آبادی
  3. اسے کیا رات دن جو طالب دیدار پھرتے ہیںغرض ہے تو غرض کے واسطے سو بار پھرتے ہیںصفی اورنگ آبادی
  4. اے دل نہ عقیدہ ہے دوا پر نہ دعا پرکم بخت تجھے چھوڑ دیا ہم نے خدا پرصفی اورنگ آبادی
  5. بد گماں کیا قبر میں ارماں ترے لے جائیں گےہم اکیلے آئے ہیں جیسے اکیلے جائیں گےصفی اورنگ آبادی
  6. بنے ہو خاک سے تو خاکساری ہو طبیعت میںطبیعت ایسی بنتی ہے تو بنتی ہے محبت میںصفی اورنگ آبادی
  7. پوچھتے کیا ہو ترا یہ حال کیسا ہو گیاتم نہ جانو تو خدا جانے مجھے کیا ہو گیاصفی اورنگ آبادی
  8. ترا بے مدعا مانگے دعا کیامرض ہے تندرستی میں دوا کیاصفی اورنگ آبادی
  9. تیرے قول و قرار کی باتیںکچھ نہیں اعتبار کی باتیںصفی اورنگ آبادی
  10. جب ترا انتظار ہوتا ہےدل بہت بے قرار ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
  11. جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیںصفی اورنگ آبادی
  12. چھٹی امید تو میں حال دل کہنے سے کیوں ڈرتامثل مشہور ہے سرکار مرتا کیا نہیں کرتاصفی اورنگ آبادی
  13. چھوڑ ہر ایک کو برا کہناایسی صورت پہ تجھ کو کیا کہناصفی اورنگ آبادی
  14. خوب ہاتھوں ہاتھ بدلہ مل گیا بیداد کاآشیاں میرا جلا گھر جل گیا صیاد کاصفی اورنگ آبادی
  15. خوش ہوں یا دوست سے خفا ہوں میںآج کل کچھ نیا نیا ہوں میںصفی اورنگ آبادی
  16. دام خیال زلف بتاں سے چھڑا لیاکیا بال بال مجھ کو خدا نے بچا لیاصفی اورنگ آبادی
  17. درد فرقت کو کیا کرے کوئیہائے عادت کو کیا کرے کوئیصفی اورنگ آبادی
  18. دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہااک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہاصفی اورنگ آبادی
  19. دل عشق میں تباہ ہوا یا کہ جل گیااچھا ہوا خلش گئی کانٹا نکل گیاصفی اورنگ آبادی
  20. دوست خوش ہوتے ہیں جب دوست کا غم دیکھتے ہیںکیسی دنیا ہے الٰہی جسے ہم دیکھتے ہیںصفی اورنگ آبادی
  21. رنج ہے اس رنج سے ہم کو تو غم اس غم سے ہےجو شکایت ہم کو ان سے ہے وہ ان کو ہم سے ہےصفی اورنگ آبادی
  22. سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میںمیں بے پیے بھی مست ہوں اب کی بہار میںصفی اورنگ آبادی
  23. شب ہجر آہ کدھر گئی کہوں کس سے نالہ کدھر گیاجو گزر گئی وہ گزر گئی جو گزر گیا وہ گزر گیاصفی اورنگ آبادی
  24. شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سےصفی اورنگ آبادی
  25. عشق الزام بھی تو ہوتا ہےیہ برا کام بھی تو ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
  26. عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
  27. کچھ نہ پائی دل نے تسکیں اور کچھ پائی تو کیاایسی صورت سے تری صورت نظر آئی تو کیاصفی اورنگ آبادی
  28. کسی دن تو ہمارا درد دل سوز جگر دیکھوکبھی تو بھول کر آؤ کبھی تو پوچھ کر دیکھوصفی اورنگ آبادی
  29. کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میںصفی اورنگ آبادی
  30. گھڑی بھر آج وہ مجھ سے رہا خوشخدا رکھے اسے اس سے سوا خوشصفی اورنگ آبادی
  31. نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دیناصفی اورنگ آبادی
  32. نہ روتا زار زار ایسا نہ کرتا شور و شر اتناالٰہی کیا کروں درد جگر اتنا جگر اتناصفی اورنگ آبادی
  33. وہ واقعات کسے یاد اک زمانہ ہواکسی نے کیا نہ کیا اور ہم پہ کیا نہ ہواصفی اورنگ آبادی
  34. وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہےمحبت کرنے والا ہر طرح مجبور ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
  35. ہائے اس بے خود شباب کا رنگلال انگارہ سا شراب کا رنگصفی اورنگ آبادی
  36. یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھیصفی اورنگ آبادی
  37. اتنے تو ہم خیال دل مبتلا ہیں ہمکل جس سے خوش تھے آج اسی سے خفا ہیں ہمصفی اورنگ آبادی
  38. جب ان سے دوستی نہ رہی دشمنی رہیبگڑی تو بگڑی اور بنی تو بنی رہیصفی اورنگ آبادی
  39. یوں تو ملنے کو اک زمانہ ملانہ ملا ہاں وہ بے وفا نہ ملاصفی اورنگ آبادی