Poetry
- ابر اترا ہے چار سو دیکھواب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھوSaadullah Shah (b. 1958)
- تم نے کیسا یہ رابطہ رکھانہ ملے ہو نہ فاصلہ رکھاSaadullah Shah (b. 1958)
- درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھیتھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھیSaadullah Shah (b. 1958)
- دشت کی پیاس بڑھانے کے لیے آئے تھےابر بھی آگ لگانے کے لیے آئے تھےSaadullah Shah (b. 1958)
- کسی بھی وہم کو خود پر سوار مت کرناخیال یار کو گرد و غبار مت کرناSaadullah Shah (b. 1958)
- کیوں نہ ہم سوچ کے سانچے میں ہی ڈھل کر دیکھیںوہ جو قائم ہے تو پھر خود کو بدل کر دیکھیںSaadullah Shah (b. 1958)
- موت اک درندہ ہے زندگی بلا سی ہےصبح بھی اداسی ہے شام بھی اداسی ہےSaadullah Shah (b. 1958)
- وقت تو وقت ہے رکتا نہیں اک پل کے لئےہو وہی بات جو قائم بھی رہے کل کے لئےSaadullah Shah (b. 1958)
- وہ بھی بگڑا، ہوئی رسوائی بھیجان لیوا ہے شناسائی بھیSaadullah Shah (b. 1958)
- ہم کو خوش آیا ترا ہم سے خفا ہو جاناسر بسر خواب کا تعبیر نما ہو جاناSaadullah Shah (b. 1958)
- ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کوکیا یہ کافی نہیں ظالم تری حیرانی کوSaadullah Shah (b. 1958)
- ہنسی کی بات کہ اس نے وہاں بلا کے مجھےبہت رلایا کہانی مری سنا کے مجھےSaadullah Shah (b. 1958)
- یہ رات دن کا بدلنا نظر میں رہتا ہےہمارا ذہن مسلسل سفر میں رہتا ہےSaadullah Shah (b. 1958)
- اداس موسم کے رتجگوں میںہر ایک لمحہ بکھر گیا تھاSaadullah Shah (b. 1958)
- مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہوکر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہوSaadullah Shah (b. 1958)