Poetry
- اس طرح دنیا کے دل میں گھر بنااپنی طرز گفتگو بہتر بناSaadat Aabidi
- انجام ہی کو اس کے نہ سمجھا نہ تو نہ میںورنہ یہ خواہشات بڑھاتا نہ تو نہ میںSaadat Aabidi
- تو ہے آب زندگی تو ہے شباب زندگیتجھ سے ہی سب کیف ہے تو ہے شراب زندگیSaadat Aabidi
- چلی جانا ہے ساری آب و تاب آہستہ آہستہکہ جیسے ختم ہوتی ہے کتاب آہستہ آہستہSaadat Aabidi
- زندگی کی کیفیت اب یہ ہے خاص و عام کیصبح کو ہوتی ہے جو حالت چراغ شام کیSaadat Aabidi
- سازش میں میرے قتل کی وہ مبتلا تو ہےمجھ کو خوشی یہ ہے وہ مجھے سوچتا تو ہےSaadat Aabidi
- فضا ایسی بہ فیض باغباں معلوم ہوتی ہےبہار گلستاں مثل خزاں معلوم ہوتی ہےSaadat Aabidi
- گھل جائے جس میں رنگ وہ پانی نہیں ہوں میںاپنی انا کا دشمن جانی نہیں ہوں میںSaadat Aabidi
- یکساں سبھی کا حال نہیں ہے تو کیوں نہیںتجھ کو جو یہ خیال نہیں ہے تو کیوں نہیںSaadat Aabidi
- یہ بھوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئےکرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئےSaadat Aabidi