Poetry
- اپنی آنکھیں ہیں اور تمہارے خوابکتنے پر کیف ہیں ہمارے خوابRaees Rampuri (b. 1930)
- جب سے دل میں ترے بخشے ہوئے غم ٹھہرے ہیںمحرم اور بھی اپنے لئے ہم ٹھہرے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- جیسے کوئی ربط نہیں ہو جیسے ہوں انجانے لوگکیا سے کیا ہو جاتے ہیں اکثر جانے پہچانے لوگRaees Rampuri (b. 1930)
- خود اپنی ذلت و خواری نہ کرناکسی کم ظرف سے یاری نہ کرناRaees Rampuri (b. 1930)
- دل میں مرے ارمان بہت ہیںاس گھر میں مہمان بہت ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- طرح طرح کے سوالات کرتے رہتے ہیںاب اپنے آپ سے ہم بات کرتے رہتے ہیںRaees Rampuri (b. 1930)
- کم میسر ہو جو ہوتی ہے اسی کی قیمتکثرت غم نے بڑھائی ہے خوشی کی قیمتRaees Rampuri (b. 1930)
- کیا کہیں یہ جبر کیسا زندگی کے ساتھ ہےہم کسی کے ساتھ ہیں اور دل کسی کے ساتھ ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- نظر میں سب کی مری بے خودی کا عالم ہےکسے خبر کہ بڑی بے بسی کا عالم ہےRaees Rampuri (b. 1930)
- نیاز عشق سے ناز بتاں تک بات جا پہنچیزمیں کا تذکرہ تھا آسماں تک بات جا پہنچیRaees Rampuri (b. 1930)
- سب کے لیے سوال یہ کب ہے کہ کیا نہ ہوان کو تو مجھ سے ضد ہے کہ میرا کہا نہ ہوRaees Rampuri (b. 1930)