Poetry
- دیکھو تو سہی زیست کے امکان بھی ہوں گےشاید کہ اسی بھیڑ میں انسان بھی ہوں گےParvez akhtar (b. 1966)
- سب کی آنکھوں میں رہا کرتے تھےفرد ہیں قوم ہوا کرتے تھےParvez akhtar (b. 1966)
- طنز کرتا ہے آئنہ مجھ پروقت کیسا یہ آ پڑا مجھ پرParvez akhtar (b. 1966)
- عشق کو زہر کیوں پلاوے ہےعشق تو راستہ دکھاوے ہےParvez akhtar (b. 1966)
- کسی سے کہیں جی لگانے سے پہلےذرا پوچھ لیتے زمانے سے پہلےParvez akhtar (b. 1966)
- موسموں کی سختیاںالحفیظ و الاماںParvez akhtar (b. 1966)
- ہوا ہے نہ ہوگا زمانہ کسی کااٹھانا کسی کو گرانا کسی کاParvez akhtar (b. 1966)
- ہے دل توڑنا تیری فطرت سنا میںاور اس کی کوئی حد نہ مدت سنا میںParvez akhtar (b. 1966)
- یہاں کسے ہنسنے کی فرصت رکھی ہےایک سے نمٹو دوسری آفت رکھی ہےParvez akhtar (b. 1966)
- ہم غبار رہ گزرہے یہ قصہ مختصرParvez akhtar (b. 1966)
- سارے پتھر نہیں ہوتے ہیں ملامت کا نشاںوہ بھی پتھر ہے جو منزل کا نشاں دیتا ہےParvez akhtar (b. 1966)