Poetry
- ایک نہ اک دیوار سرکتی رہتی ہےگھر کی چھت ہر رت میں ٹپکتی رہتی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- برف سے لڑتا تھا میرے پاس پانی کیوں نہیںاب سوال اٹھتا ہے دریا میں روانی کیوں نہیںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- تو جب گھر سے چلا جاتا ہےپیچھے رہ بھی کیا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- جو زندگی کے سب سے حسیں موڑ پر ملاوہ شخص پھر نہ مجھ کو کبھی عمر بھر ملاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- خدا کی بے رخی پر رو رہی ہےدعا مجھ سے لپٹ کر رو رہی ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- ساون میں گھبرا جاتا ہےدل میرا صحرا جاتا ہےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سفر میں دھوپ ہے تو سائبان بھی ہوگازمین ہوگی جہاں آسمان بھی ہوگاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سمندر آنکھ سے اوجھل ذرا نہیں ہوتاندی کو ڈر کسی چٹان کا نہیں ہوتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سمندر میں کھڑے ہو رو رہے ہویہ کیسی میلی چادر دھو رہے ہوParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- سینے پر رکھ ہجرت کا پتھر چپ چاپگھر میں رہ اور چھوڑ دے اپنا گھر چپ چاپParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- کوئی خوشبو نہ پھول ہوں میں توسر سے پا تک ببول ہوں میں توParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- موسم سوکھے پیڑ گرانے والا تھاکسی کسی میں پھول بھی آنے والا تھاParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- میں ریت کا محل ہوں مرے پاسباں درختسینے پہ روک لیتے ہیں سب آندھیاں درختParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- حویلیاں بھی ہیں کاریں بھی کارخانے بھیبس آدمی کی کمی دیکھتا ہوں شہروں میںParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- زمیں کو اے خدا وہ زلزلہ دےنشاں تک سرحدوں کے جو مٹا دےParveen Kumar Ashk (b. 1951)
- کسی کسی کو تھماتا ہے چابیاں گھر کیخدا ہر ایک کو اپنا پتہ نہیں دیتاParveen Kumar Ashk (b. 1951)