Poetry
- دو دل وہ سنگ سنگ دھڑکتے ہیں آج بھیکھڑکی سے چوری چوری وہ تکتے ہیں آج بھیParul Singh Noor (b. 1989)
- زندگی بس زندگی اتنی بنانی رہ گئیبن گئے کردار سارے بس کہانی رہ گئیParul Singh Noor (b. 1989)
- عمر آدھی عشق کی وہ یوں گنواتا رہ گیابے وفا کہہ کر مجھے بس آزماتا رہ گیاParul Singh Noor (b. 1989)
- غم چراتے رو پڑے تھےہم ہنساتے رو پڑے تھےParul Singh Noor (b. 1989)
- کسر کوئی نہ چھوڑی ٹوٹنے کا ڈر بنانے میںکسے پھر دوش دیں ہم اپنا دل پتھر بنانے میںParul Singh Noor (b. 1989)
- میں کب سے در بہ در ہوں مجھ کو در دکھابہت ہوا تو آخر سفر دکھاParul Singh Noor (b. 1989)
- نسل یہ جو رب سے منت مانگتی ہےتھوڑی محنت بھی تو قسمت مانگتی ہےParul Singh Noor (b. 1989)
- وہ اپنے دل کو میں نے خط لکھا تھا ناتو ہی کہتا تھا وہ تیرا پتہ تھا ناParul Singh Noor (b. 1989)