Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جاناکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جاناناصری لکھنوی
  2. اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سےاڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سےناصری لکھنوی
  3. باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کاواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کاناصری لکھنوی
  4. جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئےعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئےناصری لکھنوی
  5. دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیںپہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیںناصری لکھنوی
  6. دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئیتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئیناصری لکھنوی
  7. دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرےوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرےناصری لکھنوی
  8. دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوارات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہواناصری لکھنوی
  9. قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسادیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیساناصری لکھنوی
  10. کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سےرات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سےناصری لکھنوی
  11. میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سےکیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سےناصری لکھنوی
  12. یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کیکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کیناصری لکھنوی
  13. یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہےبیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہےناصری لکھنوی
  14. یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہودل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہوناصری لکھنوی