Poetry
- اس ستم گار نے سیکھا ہے خفا ہو جاناکیا قیامت ہوا نالوں کا رسا ہو جاناناصری لکھنوی
- اک قیامت ہے بپا شور دل دلگیر سےاڑ گئے ٹکڑے فلک کے آہ کی تاثیر سےناصری لکھنوی
- باتوں باتوں میں کیا خوں آج اک دلگیر کاواہ کیا کہنا تری رنگینیٔ تقریر کاناصری لکھنوی
- جاں اپنی وقف زحمت ہجراں کئے ہوئےعاشق ہر اک بلا کو ہیں مہماں کئے ہوئےناصری لکھنوی
- دلبر کا کیا گلہ کوئی غم خوار بھی نہیںپہلو میں آج تو دل بیمار بھی نہیںناصری لکھنوی
- دل دھڑکنے لگا فریاد کی نوبت آئیتم چلے اٹھ کے مری جان قیامت آئیناصری لکھنوی
- دوبارہ زیست کہیں غم میں مبتلا نہ کرےوہ ساتھ غیر کے ہوں حشر میں خدا نہ کرےناصری لکھنوی
- دیکھ تو فرقت میں کیا کیا حال دل پر غم ہوارات بھر سینے میں اے ظالم بڑا ماتم ہواناصری لکھنوی
- قربان ہے سو جان سے تم پر گلہ کیسادیکھو تو مرے دل نے کیا حوصلہ کیساناصری لکھنوی
- کس طرح زخمی کیا تم نے نگاہ ناز سےرات بھر رویا کیا دل درد کی آواز سےناصری لکھنوی
- میں تو عاجز ہوں تمہیں پوچھو دل ناکام سےکیوں تڑپ جاتا ہے سینے میں تمہارے نام سےناصری لکھنوی
- یاد آتی ہے مجھے جب خوش بیانی آپ کیکچھ نئے لفظوں میں کہتا ہوں کہانی آپ کیناصری لکھنوی
- یاس و حسرت درد و غم ان سب کی منزل ایک ہےبیکسی میں آفتیں اتنی ہیں اور دل ایک ہےناصری لکھنوی
- یوں مبتلا کسی پہ کوئی اے خدا نہ ہودل دے دیا ہو اور امید وفا نہ ہوناصری لکھنوی