Poetry
- آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیںغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیںمرزا مائل دہلوی
- اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھاشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھامرزا مائل دہلوی
- ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیںمیں تو کہتا تھا خواب کی باتیںمرزا مائل دہلوی
- اے ستم گر نہیں دیکھا جاتازخم دل پر نہیں دیکھا جاتامرزا مائل دہلوی
- باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیادو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیامرزا مائل دہلوی
- بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تکچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تکمرزا مائل دہلوی
- پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیاٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیامرزا مائل دہلوی
- تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کاپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کامرزا مائل دہلوی
- تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنااور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنامرزا مائل دہلوی
- ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میںدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میںمرزا مائل دہلوی
- شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیامرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیامرزا مائل دہلوی
- کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایتداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایتمرزا مائل دہلوی
- نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاںنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاںمرزا مائل دہلوی
- واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کامرزا مائل دہلوی