Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ کیا ایک ستم گار بنے بیٹھے ہیںغیر بھی تو مرے غم خوار بنے بیٹھے ہیںمرزا مائل دہلوی
  2. اشک گلگوں کو نہ خون شہدا کو دیکھاشوخ جیسا کہ ترے رنگ حنا کو دیکھامرزا مائل دہلوی
  3. ایسی کیا تھیں عتاب کی باتیںمیں تو کہتا تھا خواب کی باتیںمرزا مائل دہلوی
  4. اے ستم گر نہیں دیکھا جاتازخم دل پر نہیں دیکھا جاتامرزا مائل دہلوی
  5. باتیں ہیں واعظوں کی عذاب و ثواب کیادو دن کی زندگی میں حساب و کتاب کیامرزا مائل دہلوی
  6. بن بن کے بگڑ جائے گی تدبیر کہاں تکچکر میں رکھے گی مجھے تقدیر کہاں تکمرزا مائل دہلوی
  7. پھر آ گئی اک بت پہ طبیعت کو ہوا کیاٹلتی ہی نہیں سر سے مصیبت کو ہوا کیامرزا مائل دہلوی
  8. تم خوب اڑاتے رہو خاکہ مرے دل کاپیدا نہیں دشمن کوئی تم سا مرے دل کامرزا مائل دہلوی
  9. تم لے کے اپنے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنااور دیکھنا تو تن پہ مرے سر نہ دیکھنامرزا مائل دہلوی
  10. ڈوبا ہوا اٹھوں دم محشر شراب میںدے دیں کفن جو یار ڈبو کر شراب میںمرزا مائل دہلوی
  11. شکر اس نے کیا لب پہ مگر نام نہ آیامرنا بھی مرا ہائے مرے کام نہ آیامرزا مائل دہلوی
  12. کس منہ سے کروں میں تن عریاں کی شکایتداماں کی شکایت نہ گریباں کی شکایتمرزا مائل دہلوی
  13. نہ ہو شباب تو کیفیت شراب کہاںنہ ہو شباب تو کیفیت شباب کہاںمرزا مائل دہلوی
  14. واعظ پئے ہوئے ہوں خدا کے لئے نہ چھیڑدھڑکا مٹا ہوا ہے عذاب و ثواب کامرزا مائل دہلوی