Poetry
- باشندے حقیقت میں ہیں ہم ملک بقا کےکچھ روز سے میہمان ہیں اس دار فنا کےمردان علی خاں رانا
- پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سےچلا دو گام بھی جب وہ ادا سےمردان علی خاں رانا
- تیغ نگہ دیدۂ خوں خار نکالیکیوں آپ نے عشاق پہ تلوار نکالیمردان علی خاں رانا
- جس کو سب کہتے ہیں سمندر ہےقطرۂ اشک دیدۂ تر ہےمردان علی خاں رانا
- کر چکا قید سے جس وقت کہ آزاد مجھےہاتھ ملتا ہی رہا دیکھ کے صیاد مجھےمردان علی خاں رانا
- گئی جو طفلی تو پھر عالم شباب آیاگیا شباب تو اب موسم خضاب آیامردان علی خاں رانا
- گئی فصل بہار گلشن سےبلبلوں اڑ چلو نشیمن سےمردان علی خاں رانا
- لے قضا احسان تجھ پر کر چلےہم ترے آنے سے پہلے مر چلےمردان علی خاں رانا
- واہ کیا حسن کیسا جوبن ہےکیسی ابرو ہیں کیسی چتون ہےمردان علی خاں رانا
- وہ مسیحا قبر پر آتا رہامیں موے پر روز جی جاتا رہامردان علی خاں رانا
- کر دیا زار غم عشق نے ایسا مجھ کوموت آئی بھی تو بستر پہ نہ پایا مجھ کومردان علی خاں رانا
- ہجر جاناں میں جی سے جانا ہےبس یہی موت کا بہانہ ہےمردان علی خاں رانا