Poetry
- اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹاورق انجمن دہر سراسر الٹامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشقآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشقمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبحشام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیاکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیںیہ اک بھولا ہوا پر آج ہم افسانہ کہتے ہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتاتو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کادل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کرطبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کرمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدادل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرحڈھونڈھتا ہوں چشمۂ حیواں سکندر کی طرحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی راتدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی راتمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ضبط سے دل نزار رہتا ہےاندرونی بخار رہتا ہےمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھیدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھیمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میںتل بھر جگہ نہیں ہے دل پر ملال میںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیںاپنے کہنے ہی میں اپنا دل ناشاد نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتاغبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیںسو مرض ہیں اور بظاہر کوئی بیماری نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرفلائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرفمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھاآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کامجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھااس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھاچارہ گر بھی نہ مرے درد کا درماں سمجھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
- ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیاآج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی