Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس نے مے پی کے سر بزم جو ساغر الٹاورق انجمن دہر سراسر الٹامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  2. انتظار حشر کر سکتے نہیں ناکام عشقآج ہی ہو جائے ہونا ہو جو کل انجام عشقمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  3. ان کی رخصت اک قیامت تھی دم اظہار صبحشام تک بچتا نظر آتا نہیں بیمار صبحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  4. بعد مدت جو میں اے چرخ کہن یاد آیاکیا ستم کوئی نیا مشفق من یاد آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  5. پس توبہ حدیث مطرب و پیمانہ کہتے ہیںیہ اک بھولا ہوا پر آج ہم افسانہ کہتے ہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  6. ترے وعدے کا ہر اک کو اگر اعتبار ہوتاتو جہاں میں کچھ نہ ہوتا فقط انتظار ہوتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  7. جو مدتوں میں کسی شوخ کا شباب آیارہین دامن و منت کش حجاب آیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  8. خوگر لذت ہوں میں کس شوخ کی تعزیر کادل کو حسرت ہے کہ پہلو ڈھونڈئیے تقصیر کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  9. رہا کرتے ہیں مے خانوں میں ہم پیر مغاں ہو کرطبیعت زندہ دل رکھتی ہے پیری میں جواں ہو کرمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  10. سارے عالم سے مرے غم کا ہے افسانہ جدادل کے ماتم کے لیے چاہیے غم خانہ جدامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  11. شوق دل فکر دہن میں ہے جو رہبر کی طرحڈھونڈھتا ہوں چشمۂ حیواں سکندر کی طرحمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  12. صبح کو حشر بھی ہے کٹ گئی گر آج کی راتدے رہا ہے مرا دل کل کی خبر آج کی راتمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  13. ضبط سے دل نزار رہتا ہےاندرونی بخار رہتا ہےمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  14. کاروبار عشق کی کثرت کبھی ایسی نہ تھیدل نہ تھا تو تنگئ فرصت کبھی ایسی نہ تھیمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  15. کثرت سے داغ ہیں جو غم عشق خال میںتل بھر جگہ نہیں ہے دل پر ملال میںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  16. کچھ خوشی سے ہمیں عشق ستم ایجاد نہیںاپنے کہنے ہی میں اپنا دل ناشاد نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  17. کوئی ارماں تلاش دوست کا کیوں دل میں رہ جاتاغبار اپنا اگر گرد رہ منزل میں رہ جاتامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  18. کوئی مجھ سا مستحق رحم و غم خواری نہیںسو مرض ہیں اور بظاہر کوئی بیماری نہیںمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  19. کھینچ کر یوں لے چلی وحشت بیاباں کی طرفلائیں جیسے طفل بد خو کو دبستاں کی طرفمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  20. کیوں کہتے ہو کیا میری جفا کو نہیں دیکھاآتے ہوئے کہہ کہہ کے قضا کو نہیں دیکھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  21. مجسم داغ حسرت ہوں سراپا نقش عبرت کامجھے دیکھو کہ ہوتا ہے یہی انجام الفت کامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  22. معنی طراز عشق ہر اک بادہ خوار تھااس میکدے میں مست جو تھا ہوشیار تھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  23. وہ تغافل کو علاج غم پنہاں سمجھاچارہ گر بھی نہ مرے درد کا درماں سمجھامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  24. ہاتھ رکھتے ہی تھا حال قلب مضطر آئینہدست نازک ہے حسینوں کا مقرر آئینہمنشی نوبت رائے نظر لکھنوی
  25. ہجر میں ناشاد دنیا سے دل مضطر گیاآج اپنے ساتھ کا اک مرنے والا مر گیامنشی نوبت رائے نظر لکھنوی