Poetry
- آہ میں بے قرار کس کا ہوںکشتۂ انتظار کس کا ہوںمیر سوز
- اپنے نالے میں گر اثر ہوتاقطرۂ اشک بھی گہر ہوتامیر سوز
- اگر میں جانتا ہے عشق میں دھڑکا جدائی کاتو جیتے جی نہ لیتا نام ہرگز آشنائی کامیر سوز
- پاس رہ کر دیکھنا تیرا بڑا ارمان ہےمجھ کو سب مشکل ہے پیارے تجھ کو سب آسان ہےمیر سوز
- ترا ہم نے جس کو طلب گار دیکھااسے اپنی ہستی سے بے زار دیکھامیر سوز
- تو ہم سے جو ہم شراب ہوگابہتوں کا جگر کباب ہوگامیر سوز
- جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگااتنا ہی خراب و خوار ہوگامیر سوز
- جس کا تجھ سا حبیب ہووے گاکون اس کا رقیب ہووے گامیر سوز
- جو ہم سے تو ملا کرے گابندہ تجھ کو دعا کرے گامیر سوز
- حسن کی گر زکوٰۃ پاؤں میںتو بھکاری ترا کہاؤں میںمیر سوز
- عشاق تیرے سب تھے پر زار تھا سو میں تھاجگ کے خرابہ اندر اک خوار تھا سو میں تھامیر سوز
- غمزۂ چشم شرمسار کہاںسر تو حاضر ہے تیغ یار کہاںمیر سوز
- کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گاجو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گامیر سوز
- محبت منہ پہ کرنا اور دل میں بے وفائی ہےیہ آئینہ یہاں کہتا ہے کیسی آشنائی ہےمیر سوز
- ناصحو دل کس کنے ہے کس کو سمجھاتے ہو تمکیوں دوانے ہو گئے ہو جان کیوں کھاتے ہو تممیر سوز
- ہمیں کون پوچھے ہے صاحبو نہ سوال میں نہ جواب میںنہ تو کوئی آدمی جانے ہے نہ حساب میں نہ کتاب میںمیر سوز
- یہ تیرا عشق کب کا آشنا تھاکہاں کا جان کو میری دھرا تھامیر سوز