Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیامیرا چہرہ اتر گیا ہے کیاLokesh Kumar Singh
  2. اپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنےزندگی کے لئے مرے کتنےLokesh Kumar Singh
  3. اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہےکہاں میری خماری جا رہی ہےLokesh Kumar Singh
  4. اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگایہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگاLokesh Kumar Singh
  5. جسم کے اس غار میں دکھتا ہے سبریت کے انبار میں دکھتا ہے سبLokesh Kumar Singh
  6. سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتےمیں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتےLokesh Kumar Singh
  7. کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںبھر چکے زخم کی دوا ہوں میںLokesh Kumar Singh
  8. یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤںمیری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤںLokesh Kumar Singh