Poetry
- آئنہ پھر نکھر گیا ہے کیامیرا چہرہ اتر گیا ہے کیاLokesh Kumar Singh
- اپنی سانسوں سے ہم ڈرے کتنےزندگی کے لئے مرے کتنےLokesh Kumar Singh
- اترتی کیوں یہ ساری جا رہی ہےکہاں میری خماری جا رہی ہےLokesh Kumar Singh
- اس کے کھلتے ہی ہر اک سمت اجالا ہوگایہ تبسم ہے اسے درد نے پالا ہوگاLokesh Kumar Singh
- جسم کے اس غار میں دکھتا ہے سبریت کے انبار میں دکھتا ہے سبLokesh Kumar Singh
- سکھوں کی آس ہے کب سے مگر نہیں آتےمیں وہ درخت ہوں جس پر ثمر نہیں آتےLokesh Kumar Singh
- کیا بتاؤں تمہیں کہ کیا ہوں میںبھر چکے زخم کی دوا ہوں میںLokesh Kumar Singh
- یہ تمنا ہے کہ میں حرف وفا ہو جاؤںمیری باتیں رہیں بے شک میں فنا ہو جاؤںLokesh Kumar Singh