Poetry
- آگ سینے میں محبت کی لگاتے کیوں ہیںجب انہیں چھوڑ کے جانا ہے تو آتے کیوں ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- ٹھکانا ہو نہ ہو پھر بھی ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیںقفس میں رہ کے بھی ہم آشیانہ ڈھونڈ لیتے ہیںKailash Guru Swami (b. 1948)
- دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتاساگر کی طرح زخم بھی گہرا نہیں ہوتاKailash Guru Swami (b. 1948)
- زندگی خار ہے گلاب بھی ہےزندگی زندگی ہے خواب بھی ہےKailash Guru Swami (b. 1948)
- سخاوتوں کے بہانے سے چھل رہے ہیں لوگنہ جانے کون سے سانچے میں ڈھل رہے ہیں لوگKailash Guru Swami (b. 1948)
- غم زمانے سے چھپانا ہی پڑاروتے روتے مسکرانا ہی پڑاKailash Guru Swami (b. 1948)
- کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہےجیسے بھر کر شراب لائی ہےKailash Guru Swami (b. 1948)
- وہ نہیں ہے تو کیا جیا جائےزندگی تیرا کیا کیا جائےKailash Guru Swami (b. 1948)