Poetry
- پھر موسم یخ بستہ بدلنے کی خبر دےرگ رگ میں جمی برف پگھلنے کی خبر دےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گاوہ شاہ وقت ہے سارا جہان بانٹے گاKahkashan Tabassum (b. 1960)
- لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہےبھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- مانگے ہے اک ستارہ سر آسمان پھردل کو یہ ضد کہ سوئے افق ہو اڑان پھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- موسم خوشبو رنگ دھنک کے منظر سارے اس کے تھےرات کی کالی چھایا میری چاند ستارے اس کے تھےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- بہت سی نظمیں کہی تھیں میں نےلکھیں بھی لکھ لکھ کے پھاڑ ڈالیںKahkashan Tabassum (b. 1960)
- صرف ہمارا شہر ہی نہیں جلاجل گئی ہماری ریشمی تہذیب بھیKahkashan Tabassum (b. 1960)
- کوئی سومناتھ کا مندر نہیں تھااور نہ تلوار والے ہاتھ تھے غوریوں کےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- وہ مؤذن تھاذرا سی دیر کو آ یا تھا اپنے گھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- گڑھو مت چاک پہ رکھ کےکوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہمیں خانوں میں مت بانٹوکہ ہم تو روشنی ٹھہرےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- چلو آؤ چلیںچلیں پھر لوٹ کے واپسKahkashan Tabassum (b. 1960)
- شاکاہاریگوشت مچھلی انڈے نہیں کھاتےKahkashan Tabassum (b. 1960)
- وہ درد بھی تھا سوا حدوں سےتمہاری آمد کا جس میں مژدہ چھپا ہوا تھاKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہزاروں سال بیتےمری زرخیز دھرتی کے سنگھاسن پرKahkashan Tabassum (b. 1960)
- ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیKahkashan Tabassum (b. 1960)
- یہ تری شکل ہے کہ چاند کا روشن چہرہیہ ستارےKahkashan Tabassum (b. 1960)