Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھر موسم یخ بستہ بدلنے کی خبر دےرگ رگ میں جمی برف پگھلنے کی خبر دےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  2. زمیں کے ٹکڑے کئے آسمان بانٹے گاوہ شاہ وقت ہے سارا جہان بانٹے گاKahkashan Tabassum (b. 1960)
  3. لہو کی موج میں جینا مرے حصے میں آیا ہےبھنور بنتا ہوا دریا مرے حصے میں آیا ہےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  4. مانگے ہے اک ستارہ سر آسمان پھردل کو یہ ضد کہ سوئے افق ہو اڑان پھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  5. موسم خوشبو رنگ دھنک کے منظر سارے اس کے تھےرات کی کالی چھایا میری چاند ستارے اس کے تھےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  6. بہت سی نظمیں کہی تھیں میں نےلکھیں بھی لکھ لکھ کے پھاڑ ڈالیںKahkashan Tabassum (b. 1960)
  7. صرف ہمارا شہر ہی نہیں جلاجل گئی ہماری ریشمی تہذیب بھیKahkashan Tabassum (b. 1960)
  8. کوئی سومناتھ کا مندر نہیں تھااور نہ تلوار والے ہاتھ تھے غوریوں کےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  9. وہ مؤذن تھاذرا سی دیر کو آ یا تھا اپنے گھرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  10. گڑھو مت چاک پہ رکھ کےکوئی کوزہ صراحی یا گھڑا پیالہKahkashan Tabassum (b. 1960)
  11. ہمیں خانوں میں مت بانٹوکہ ہم تو روشنی ٹھہرےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  12. چلو آؤ چلیںچلیں پھر لوٹ کے واپسKahkashan Tabassum (b. 1960)
  13. شاکاہاریگوشت مچھلی انڈے نہیں کھاتےKahkashan Tabassum (b. 1960)
  14. وہ درد بھی تھا سوا حدوں سےتمہاری آمد کا جس میں مژدہ چھپا ہوا تھاKahkashan Tabassum (b. 1960)
  15. ہزاروں سال بیتےمری زرخیز دھرتی کے سنگھاسن پرKahkashan Tabassum (b. 1960)
  16. ہزاروں صدیاں گزر چکی ہیںکسی سمے میں وہ تھی ست ونتیKahkashan Tabassum (b. 1960)
  17. یہ تری شکل ہے کہ چاند کا روشن چہرہیہ ستارےKahkashan Tabassum (b. 1960)