Poetry
- آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
- اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھاب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھJalal Aarif
- بھلا ہو اس کا جو رستے میں مجھ کو ڈال گیازمانہ سنگ سمجھ کر مجھے اچھال گیاJalal Aarif
- جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
- جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
- دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہےJalal Aarif
- سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہےہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہےJalal Aarif
- عشق بے خود تھا بے حجاب آیاحسن ڈالے ہوئے نقاب آیاJalal Aarif
- مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دےمجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دےJalal Aarif