Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آداب جنوں اہل نظر بھول گئے ہیںجیتے تو ہیں جینے کا ہنر بھول گئے ہیںJalal Aarif
  2. اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھاب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھJalal Aarif
  3. بھلا ہو اس کا جو رستے میں مجھ کو ڈال گیازمانہ سنگ سمجھ کر مجھے اچھال گیاJalal Aarif
  4. جب بھی زلفوں کو ترے رخ پہ بکھرتے دیکھاہو کے شرمندہ گھٹاؤں کو گزرتے دیکھاJalal Aarif
  5. جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتازمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتاJalal Aarif
  6. دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہےدشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہےJalal Aarif
  7. سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہےہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہےJalal Aarif
  8. عشق بے خود تھا بے حجاب آیاحسن ڈالے ہوئے نقاب آیاJalal Aarif
  9. مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دےمجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دےJalal Aarif