Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اک پرانی شراب جیسا عشقمجھ سے خانہ خراب جیسا عشقJagdish Prakash (b. 1935)
  2. بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہےاور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہےJagdish Prakash (b. 1935)
  3. بصارت کھو گئی ہے روشنی میںمزہ آنے لگا ہے تیرگی میںJagdish Prakash (b. 1935)
  4. ترا خیال مجھے اس طرح پکارتا ہےکہ مندروں میں کوئی آرتی اتارتا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
  5. تمہارا ذکر مری داستان بن بیٹھامیں ایک ذرہ تھا اور آسمان بن بیٹھاJagdish Prakash (b. 1935)
  6. جو بھی ہونا تھا وہ ہوا اچھاتو ہے اچھا ترا خدا اچھاJagdish Prakash (b. 1935)
  7. راہ کو آزما کے دیکھو تواک قدم پھر بڑھا کے دیکھو توJagdish Prakash (b. 1935)
  8. شاہراہیں نہیں ڈگر تو ہےمنزلیں نا سہی سفر تو ہےJagdish Prakash (b. 1935)
  9. مرا وجود مرے اعتبار جیسا ہےکبھی وصال کبھی انتظار جیسا ہےJagdish Prakash (b. 1935)
  10. مری زندگی ہے سراب سی کبھی موجزن کبھی تشنہ دمکبھی انتظار کی دھوپ سی کبھی قربتوں کا کوئی بھرمJagdish Prakash (b. 1935)
  11. میں نے سانسوں سے گفتگو کی ہےساتھ چلنے کی آرزو کی ہےJagdish Prakash (b. 1935)
  12. میں تو اک وجود‌‌‌ خیال ہوںمجھے جس طرح سے بھی سوچ لوJagdish Prakash (b. 1935)
  13. ہم نے بھی چاہا تھا بہت کچھہم نے بھی کچھ مانگا تھاJagdish Prakash (b. 1935)
  14. ہاتھ میں تابوت تھامے ان دنوں کےجن دنوں اس لالٹینوں کی گلی میںJagdish Prakash (b. 1935)
  15. بس اک میں ہوںبس اک تم ہوJagdish Prakash (b. 1935)
  16. تنہائی کو خواب کی دستک دیتے دیکھادیکھا اک گنبد کے نیچےJagdish Prakash (b. 1935)