Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیںسو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیںJabbar Wasif (b. 1975)
  2. تمام شہر تو بے مہر نیند سو رہا تھامگر میں آنکھوں میں نوک قلم چبھو رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)
  3. جبر نے جب مجھے رسوا سر بازار کیاصبر نے میرے مجھے صاحب دستار کیاJabbar Wasif (b. 1975)
  4. جو نباتات و جمادات پہ شک کرتے ہیںاے خدا تیرے کمالات پہ شک کرتے ہیںJabbar Wasif (b. 1975)
  5. در شامل ہو اور دیوار ملوث ہویعنی یار کی ہار میں یار ملوث ہوJabbar Wasif (b. 1975)
  6. دیار درد سے آیا ہوا نہیں لگتامیں اہل دل کو ستایا ہوا نہیں لگتاJabbar Wasif (b. 1975)
  7. سوچ لیجے کیوں عذاب آیا تھا قوم ہود پراور پھر کچھ غور کیجے لمحۂ موجود پرJabbar Wasif (b. 1975)
  8. صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھےکوئی اے کاش مری بات کا مطلب سمجھےJabbar Wasif (b. 1975)
  9. عجیب خواب تھا ہم باغ میں کھڑے ہوئے تھےہمارے سامنے پھولوں کے سر پڑے ہوئے تھےJabbar Wasif (b. 1975)
  10. کبھی زمین کبھی آسماں سے لڑتا ہےعجیب شخص ہے سارے جہاں سے لڑتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
  11. کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہےکوئی کہتا ہے شاعری ہے عبث کوئی امکان اس کو کہتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
  12. مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوںذرا جے جے ونتی کے سر لگا کہ میں رو پڑوںJabbar Wasif (b. 1975)
  13. مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گایہ بات طے ہے کہ میری برسی منانے والا کوئی نہ ہو گاJabbar Wasif (b. 1975)
  14. میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہوخدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہوJabbar Wasif (b. 1975)
  15. میں وقت کی آب جو سے آگے نکل گیا ہوںسو دہر کی ہا و ہو سے آگے نکل گیا ہوںJabbar Wasif (b. 1975)
  16. نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہےیہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہےJabbar Wasif (b. 1975)
  17. وہی مسافر مسافرت کا مجھے قرینہ سکھا رہا تھاجو اپنی چھاگل سے اپنے گھوڑے کو آپ پانی پلا رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)