Poetry
- انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیںسو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیںJabbar Wasif (b. 1975)
- تمام شہر تو بے مہر نیند سو رہا تھامگر میں آنکھوں میں نوک قلم چبھو رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)
- جبر نے جب مجھے رسوا سر بازار کیاصبر نے میرے مجھے صاحب دستار کیاJabbar Wasif (b. 1975)
- جو نباتات و جمادات پہ شک کرتے ہیںاے خدا تیرے کمالات پہ شک کرتے ہیںJabbar Wasif (b. 1975)
- در شامل ہو اور دیوار ملوث ہویعنی یار کی ہار میں یار ملوث ہوJabbar Wasif (b. 1975)
- دیار درد سے آیا ہوا نہیں لگتامیں اہل دل کو ستایا ہوا نہیں لگتاJabbar Wasif (b. 1975)
- سوچ لیجے کیوں عذاب آیا تھا قوم ہود پراور پھر کچھ غور کیجے لمحۂ موجود پرJabbar Wasif (b. 1975)
- صبح کے بارہ بجے رات کا مطلب سمجھےکوئی اے کاش مری بات کا مطلب سمجھےJabbar Wasif (b. 1975)
- عجیب خواب تھا ہم باغ میں کھڑے ہوئے تھےہمارے سامنے پھولوں کے سر پڑے ہوئے تھےJabbar Wasif (b. 1975)
- کبھی زمین کبھی آسماں سے لڑتا ہےعجیب شخص ہے سارے جہاں سے لڑتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- کوئی ہیجان اس کو کہتا ہے کوئی وجدان اس کو کہتا ہےکوئی کہتا ہے شاعری ہے عبث کوئی امکان اس کو کہتا ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- مجھے کوئی ایسی غزل سنا کہ میں رو پڑوںذرا جے جے ونتی کے سر لگا کہ میں رو پڑوںJabbar Wasif (b. 1975)
- مری غزل سے غزل کی محفل سجانے والا کوئی نہ ہو گایہ بات طے ہے کہ میری برسی منانے والا کوئی نہ ہو گاJabbar Wasif (b. 1975)
- میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہوخدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہوJabbar Wasif (b. 1975)
- میں وقت کی آب جو سے آگے نکل گیا ہوںسو دہر کی ہا و ہو سے آگے نکل گیا ہوںJabbar Wasif (b. 1975)
- نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہےیہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہےJabbar Wasif (b. 1975)
- وہی مسافر مسافرت کا مجھے قرینہ سکھا رہا تھاجو اپنی چھاگل سے اپنے گھوڑے کو آپ پانی پلا رہا تھاJabbar Wasif (b. 1975)