Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج انہیں کچھ اس طرح جی کھول کر دیکھا کئےایک ہی لمحے میں جیسے عمر بھر دیکھا کئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  2. اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوااب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سواHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  3. اک عمر سے ہم تم آشنا ہیںہم سے مہ و انجم آشنا ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  4. ایسی بھی کیا جلدی پیارے جانے ملیں پھر یا نہ ملیں ہمکون کہے گا پھر یہ فسانہ بیٹھ بھی جاؤ سن لو کوئی دمHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  5. تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیااس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  6. راز سر بستہ محبت کے زباں تک پہنچےبات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  7. روشنی سی کبھی کبھی دل میںمنزل بے نشاں سے آتی ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  8. غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کےتہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  9. کچھ اس طرح سے نظر سے گزر گیا کوئیکہ دل کو غم کا سزاوار کر گیا کوئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  10. کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائےحدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  11. گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملےکسی کو خاک سکوں مرگ ناگہاں سے ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  12. لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیےشرح راحت کے لیے غم کی صراحت کے لیےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  13. محبت کرنے والے کم نہ ہوں گےتری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  14. نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کاارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  15. نہ پوچھ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسوجو تیرے دل میں ہے اس بات پر نہیں آئےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  16. ہر قدم پر ہم سمجھتے تھے کہ منزل آ گئیہر قدم پر اک نئی درپیش مشکل آ گئیHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  17. چاندنی رات ہے جوانی پردست گردوں میں ساغر مہتابHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  18. اب یہی میرے مشاغل رہ گئےسوچنا اور جانب در دیکھناHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  19. تری تلاش میں جب ہم کبھی نکلتے ہیںاک اجنبی کی طرح راستے بدلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  20. تری تلاش ہے یا تجھ سے اجتناب ہے یہکہ روز ایک نئے راستے پہ چلتے ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  21. ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسےتجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  22. تمام عمر کیا ہم نے انتظار بہاربہار آئی تو شرمندہ ہیں بہار سے ہمHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  23. جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئےزندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  24. جلوہ بے باک ادا شوخ تماشا گستاخاٹھ گئے بزم سے آداب نظر میرے بعدHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  25. دل میں اک شور سا اٹھا تھا کبھیپھر یہ ہنگامہ عمر بھر ہی رہاHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  26. دنیا میں ہیں کام بہتمجھ کو اتنا یاد نہ آHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  27. دوستی عام ہے لیکن اے دوستدوست ملتا ہے بڑی مشکل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  28. غم زندگانی کے سب سلسلےبالآخر غم عشق سے جا ملےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  29. نظر سے حد نظر تک تمام تاریکییہ اہتمام ہے اک وعدۂ‌ سحر کے لیےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  30. ہم کو منزل نے بھی گمراہ کیاراستے نکلے کئی منزل سےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  31. یہ بات کہہ کے ہوا ناخدا الگ مجھ سےیہ ہے سفینہ یہ گرداب ہے وہ ہے ساحلHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  32. یہ تمیز عشق و ہوس نہیں ہے حقیقتوں سے گریز ہےجنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہل ہوس بھی ہیںHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
  33. یہ دل کشی کہاں مری شام و سحر میں تھیدنیا تری نظر کی بدولت نظر میں ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)