Poetry
- اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکناب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤںHadi Machlishahri (1890–1961)
- اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میںاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
- اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلاجس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلاHadi Machlishahri (1890–1961)
- تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیزکس سے کس کا گلا کرے کوئیHadi Machlishahri (1890–1961)
- تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کیکبھی اسے چھیڑ کر تو دیکھو جو لے مرے دل کی ساز میں ہےHadi Machlishahri (1890–1961)
- تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیںجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
- درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریبمیری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریبHadi Machlishahri (1890–1961)
- دیکھ کر شمع کے آغوش میں پروانے کودل نے بھی چھیڑ دیا شوق کے افسانے کوHadi Machlishahri (1890–1961)
- زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسمHadi Machlishahri (1890–1961)
- کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میںیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
- محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جااپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جاHadi Machlishahri (1890–1961)
- میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کووہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
- نظام طبیعت سے گھبرا گیا دلطبیعت کی اب برہمی چاہتا ہوںHadi Machlishahri (1890–1961)
- وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتاتری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتاHadi Machlishahri (1890–1961)
- ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میںمآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
- اس نے اس انداز سے دیکھا مجھےزندگی بھر کا گلہ جاتا رہاHadi Machlishahri (1890–1961)