Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اٹھنے کو تو اٹھا ہوں محفل سے تری لیکناب دل کو یہ دھڑکا ہے جاؤں تو کدھر جاؤںHadi Machlishahri (1890–1961)
  2. اس بے وفا کی بزم سے چشم خیال میںاک خواب آرزو کا لیے جا رہا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  3. اشک غم عقدہ کشائے خلش جاں نکلاجس کو دشوار میں سمجھا تھا وہ آساں نکلاHadi Machlishahri (1890–1961)
  4. تم عزیز اور تمہارا غم بھی عزیزکس سے کس کا گلا کرے کوئیHadi Machlishahri (1890–1961)
  5. تمہیں بھی معلوم ہو حقیقت کچھ اپنی رنگیں ادائیوں کیکبھی اسے چھیڑ کر تو دیکھو جو لے مرے دل کی ساز میں ہےHadi Machlishahri (1890–1961)
  6. تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیںجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  7. درد سا اٹھ کے نہ رہ جائے کہیں دل کے قریبمیری کشتی نہ کہیں غرق ہو ساحل کے قریبHadi Machlishahri (1890–1961)
  8. دیکھ کر شمع کے آغوش میں پروانے کودل نے بھی چھیڑ دیا شوق کے افسانے کوHadi Machlishahri (1890–1961)
  9. زباں پہ حرف شکایت ارے معاذ اللہمجھے ترے ستم صبر آزما کی قسمHadi Machlishahri (1890–1961)
  10. کھویا ہوا سا رہتا ہوں اکثر میں عشق میںیا یوں کہو کہ ہوش میں آنے لگا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  11. محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جااپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جاHadi Machlishahri (1890–1961)
  12. میں کیا ہوں کون ہوں یہ بھی خبر نہیں مجھ کووہ اس طرح مری ہستی پہ چھائے جاتے ہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  13. نظام طبیعت سے گھبرا گیا دلطبیعت کی اب برہمی چاہتا ہوںHadi Machlishahri (1890–1961)
  14. وہ کون ہے جو یہاں شادماں نہیں ملتاتری گلی میں کہیں آسماں نہیں ملتاHadi Machlishahri (1890–1961)
  15. ہزار خاک کے ذروں میں مل گیا ہوں میںمآل شوق ہوں آئینہ وفا ہوں میںHadi Machlishahri (1890–1961)
  16. اس نے اس انداز سے دیکھا مجھےزندگی بھر کا گلہ جاتا رہاHadi Machlishahri (1890–1961)