Poetry
- ادھورا اپنی ہی زندگی کا حساب ٹھہراجو چاہے پڑھ لے ہمارا چہرا کتاب ٹھہراHabeeb Saifi
- برادروں کا مزاج بدلے یا گھر کا سارا رواج بدلےرہی یہ خواہش ہمیشہ اپنی جو کل بدلنا ہے آج بدلےHabeeb Saifi
- فرشتوں جیسے دنیا میں بشر جلدی نہیں آتےکہ سچائی کے حامی بھی نظر جلدی نہیں آتےHabeeb Saifi
- کبھی جب مل کے رہتے تھے وہ صحبت یاد آتی ہےہمیں اپنے بزرگوں کی شرافت یاد آتی ہےHabeeb Saifi
- کبھی ڈھلتے ہوئے سورج کا منظر ہی نہیں دیکھاترے دل سے پرے میں نے گزر کر ہی نہیں دیکھاHabeeb Saifi
- کہاں احسان میری ذات پر تقدیر کا ہوگاہوا گر کچھ مرے حق میں صلہ تدبیر کا ہوگاHabeeb Saifi
- لگا ہے جو دل پر مرے تیر دیکھیںملی کیا محبت میں جاگیر دیکھیںHabeeb Saifi
- یقیناً رنگ لائے گی دعا آہستہ آہستہکرے گا بے وفا بھی اب وفا آہستہ آہستہHabeeb Saifi