Poetry
- اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گیعکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گیGauhar Usmani (1924–2004)
- بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہےمیں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہےGauhar Usmani (1924–2004)
- ترا حسن ہے وہ صہبا کہ کوئی مثال کیا دےکبھی تشنگی بجھا دے کبھی تشنگی بڑھا دےGauhar Usmani (1924–2004)
- تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گےزندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گےGauhar Usmani (1924–2004)
- حقیقتوں سے کبھی انحراف مت کیجےقصور جس کا ہو اس کو معاف مت کیجےGauhar Usmani (1924–2004)
- خواب تیرے ہیں یہ خوابوں کا نگر تیرا ہےذکر انفاس میں ہر شام و سحر تیرا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
- دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہناتم جہاں رہنا محبت کے سفر میں رہناGauhar Usmani (1924–2004)
- رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہےآئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہےGauhar Usmani (1924–2004)
- غم دیتے ہیں تو اضطراب نہ دےزندگی دے مگر عذاب نہ دےGauhar Usmani (1924–2004)
- کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ کرم کے روپ میں اک ستم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوGauhar Usmani (1924–2004)
- کبھی شعور کبھی دل کبھی سخن مہکےکہو وہ شعر کہ دنیائے فکر و فن مہکےGauhar Usmani (1924–2004)
- مزاج مستقل دینا شعور معتبر دیناجھکا پائے نہ جس کو وقت کا طوفاں وہ سر دیناGauhar Usmani (1924–2004)
- یا رب دل و نظر پہ مسلط کبھی نہ ہووہ بے خودی کہ جس میں شعور خودی نہ ہوGauhar Usmani (1924–2004)