Poetry
- اپنا دکھڑا کہتے ہیںاور تجھے کیا کہتے ہیںGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اجلے میلے پیش ہوئےجیسے ہم تھے پیش ہوئےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- اک سایۂ شام یاد آیاخوشبو کا خرام یاد آیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- بندوں کا مزاج ہم نے دیکھاکیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- جاتی رت سے پیار کرو گےکر لو بات ادھار کرو گےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہےپانی کا بہاؤ کس طرف ہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھےیہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کوناب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کونGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہےزنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- سر پر کوئی آسمان رکھ دےاک منہ میں مگر زبان رکھ دےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کیشرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کیGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- کیسے ڈوبا ڈوب گیاڈوبنے والا ڈوب گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- متاع عشق ذرا اور صرف ناز تو ہوتضیع عمر کا آخر کوئی جواز تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- مرحلہ طے کوئی بے منت جادہ بھی تو ہوغم بڑھے بھی تو سہی درد زیادہ بھی تو ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- میں خود ہی خوگر خلش جستجو نہ تھادشوار ورنہ مرحلۂ آرزو نہ تھاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- ہاں کاہش فضول کا حاصل بھی کچھ نہیںلیکن حیات بے خلش دل بھی کچھ نہیںGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- ہے جو بھی جزا سزا عطا ہوہونا ہے جو آج برملا ہوGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- یہاں کون اس کے سوا رہ گیازمانہ گیا آئنہ رہ گیاGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)
- یہ صحرائے طلب یا بیشۂ آشفتہ حالی ہےکوئی دریوزہ گر اپنا کوئی تیرا سوالی ہےGauhar Hoshiyarpuri (1930–2000)