Poetry
- ابھی ابھی تھا تبسم ابھی حجاب میں ہےزمانے بھر کا تلون ترے شباب میں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- اک بادۂ سیمابی برسا مہ و اختر سےنکلے جو تڑپ کر وہ چاک دل مضطر سےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- جو اشک دل گداز میں شرر نہ ہو لہو نہ ہویہ واقعہ ہے عشق سادہ لوح سرخ رو نہ ہوFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- کچھ مکدر سا سر بالیں تجھے پاتا ہوں میںلے چراغ صبح سے پہلے بجھا جاتا ہوں میںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- کیا غضب تو نے یہ اے ذوق پشیماں کر دیامیرا آنسو ان کی آنکھوں سے نمایاں کر دیاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- گل رنگیں مہ کامل کہاں ہےمجھے آواز دے اے دل کہاں ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- مدد اے ضبط شمع زندگی لہرائی جاتی ہےفغاں کے ساتھ کھنچ کر جاں لبوں پر آئی جاتی ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- میں نے آغوش تصور میں تمہیں کیا دیکھاجگنو چمکا تو میں سمجھا ید بیضا دیکھاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- نشاط روح وجہ گرمئ محفل نہیں ہوتاوہ اک نغمہ جو آواز شکست دل نہیں ہوتاFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- وہ مسکرائیں اسیران رنگ و بو کے لئےشعور چاہئے پھولوں کو آرزو کے لئےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- ہر سحر رنگیں نوا ہر شام خوش آہنگ ہےیہ جوانی ہے کہ فردوس رباب و چنگ ہےFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)
- ید بیضا رخ یوسف دل منصور ہوتے ہیںجو تو دیکھے تو ذرے بھی چراغ طور ہوتے ہیںFaiz Jhanjhanvi (1910–1981)