Poetry
- اٹھ اس ہجوم سے اے بے وفا علاحدہ ہومرا حساب چکا دے ذرا علاحدہ ہوFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- تیرے لہجے تری باتوں میں کوئی اور بھی تھایوں ترے چاہنے والوں میں کوئی اور بھی تھاFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- خریدنے کا نئے پھول کچھ ارادہ نئیںکسے ملیں کہ ہمارا کسی سے وعدہ نئیںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- کس نے اس دشت میں گھر بار لٹانا ہے میاںایسے ویرانے کو ہم نے ہی سجانا ہے میاںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- کسی کی زلف کسی کے لبوں کو چاہا تھافریب دیتی ہوئی صورتوں کو چاہا تھاFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- لٹائے بیٹھا ہوں رخت سفر محبت میںلگائے بیٹھا ہوں میں گھر کا گھر محبت میںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- میری صورت سے وہ انجان بھی ہو سکتا ہےمیرے ملنے سے وہ حیران بھی ہو سکتا ہےFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- نہ موم ہوں نہ سنگ ہوں ملنگ ہوںمیں خود سے خود کی جنگ ہوں ملنگ ہوںFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- نئی زمین عطا ہو نیا مکاں بھی بنےہمارے ہجر کا کچھ منفرد نشاں بھی بنےFaisal Imam Rizvi (b. 1988)
- یقین جاتا رہا اعتبار ختم ہواتمہارے عشق کا سارا خمار ختم ہواFaisal Imam Rizvi (b. 1988)