Poetry
- اٹھا بھی دل سے اگر میری چشم تر میں رہاخدا کا شکر ہے طوفان گھر کا گھر میں رہاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- جان سی آ گئی ہے جان میں کیاکہہ گئے ہیں وہ میرے کان میں کیاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- حرم کی راہ میں ساقی کا گھر بھی آتا ہےسفر میں لمحۂ تر کہ سفر بھی آتا ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- عشق میں وصل کی تدبیر بتانے والاکون تھا زہر کو اکسیر بتانے والاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- عہد رفتہ کی لکیروں پہ نہ چلتے رہئےوقت کے ساتھ خیالات بدلتے رہئےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- کیا اس کا گلہ یورش تہمات بہت ہےزندہ ہیں جو ہم لوگ یہی بات بہت ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- گلہ کیوں ہو ملی ہم کو وفا کمزمانے سے ہمیں تھے آشنا کمEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- نگاہ یوں ہی نہ بس رہ گزر سے واپس آمرصع ہو کے حدوں کی خبر سے واپس آEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- ہاتھوں میں تھا اک ہاتھ ابھی کل کی بات ہےجنت تھی کائنات ابھی کل کی بات ہےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- ہر گام حادثے ہیں مقدر بنے ہوئےرہزن دکھائی دیتے ہیں رہبر بنے ہوئےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- یوں بھی ہوتی ہے سخاوت اس کا اندازہ نہ تھابھیک اس گھر سے ملی جس گھر کا دروازہ نہ تھاEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)
- یوں ترے ہجر میں آنکھوں سے ستارے ٹوٹےجیسے سیلاب سے دریا کے کنارے ٹوٹےEhtisham Bachhrayuni (b. 1939)