Poetry
- آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھےاپنے ہی داغ نظر بھر دیکھےEhsan Akbar (b. 1938)
- پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگےروبرو کون تھا جو آئنہ حیراں سے لگےEhsan Akbar (b. 1938)
- خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہےمگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتےخود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتےEhsan Akbar (b. 1938)
- کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہےابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوارفضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوارEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہےپھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہےEhsan Akbar (b. 1938)
- بچپنے کی دنیا تھیجس کے دم سے دم لیتیEhsan Akbar (b. 1938)
- شہر لا مکاں سے ہوںجس میں اک مکاں میراEhsan Akbar (b. 1938)
- یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیایہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیںEhsan Akbar (b. 1938)
- آنکھ ہی درد پہچانتی ہےمیں اس روٹ پرEhsan Akbar (b. 1938)
- جدائی اور کیا ہے میں جسے سہتا نہیں رہتایہ تم سے روز کا ملناEhsan Akbar (b. 1938)
- خزاں میں اب پھول آنے والے ہیںتم مگر ساتھ ساتھ رہناEhsan Akbar (b. 1938)
- سحر کے اگر ایسے لمحات میں جاگتے ہوستارے بھی جب اونگھ جائیںEhsan Akbar (b. 1938)
- قدم مٹی پہ رکھتی ہوکہ عرش اوپر ٹھہرتے ہیںEhsan Akbar (b. 1938)
- مرے ہاتھوں میں سورج کی سواری کے سواگت کے لئےگجرے نہیں ہوتےEhsan Akbar (b. 1938)
- ہمیں کیا چاندنی کی راتکیا راتوں کی تاریکیEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوا سے بات کروکہو کہ اس کی لگائی ہوئی گرہ نہ کھلیEhsan Akbar (b. 1938)
- ہوا مری رازداں نہیں ہےکہ چتر اس کاEhsan Akbar (b. 1938)
- یہ تم سبکہ جن کے سروں میں جوانی کا خوں لہلہاتا ہےEhsan Akbar (b. 1938)