Poetry
- اب شکایت کیا کریں گزرے ہوئے طوفان سےروشنی آنے لگی ہے پھر سے روشن دان سےDeedar Bastawi
- ٹھوکریں ووٹوں کے بدلے میں اناڑی لے گیامال و دولت سب سیاست کا کھلاڑی لے گیاDeedar Bastawi
- دوستوں سے کوئی گلہ ہی نہیںاب مرے پاس کچھ بچا ہی نہیںDeedar Bastawi
- رنگ برنگی یادوں کا گلدان بچا ہے لے دے کرمیرے جینے کا بس اک سامان بچا ہے لے دے کرDeedar Bastawi
- شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیںاس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیںDeedar Bastawi
- مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئےہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئےDeedar Bastawi
- ندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیںجواں ہو عزم تو پھر آسمان کچھ بھی نہیںDeedar Bastawi
- ہمارے زخم کا بھرنا بہت ضروری ہےاب اقتدار میں حصہ بہت ضروری ہےDeedar Bastawi