Poetry
- آنکھوں میں اشک اور نہ لبوں پر ہنسی رہیدنیا ہمارے حال کو چپ دیکھتی رہیDaud Naseeb
- پھر اٹھی چشم فسوں ساز خدا خیر کرےدل ہے پھر غرق مئے ناز خدا خیر کرےDaud Naseeb
- دل نے سبو تو آنکھ نے ساغر اٹھا لیادونوں نے اپنا اپنا مقدر اٹھا لیاDaud Naseeb
- زندگی آج یہ کس موڑ پہ لے آئی ہےبھیڑ نظروں میں ہے احساس میں تنہائی ہےDaud Naseeb
- سکون پیار تبسم بہار گل شبنمخوشی میں زیست کو کیا کیا سمجھ گئے تھے ہمDaud Naseeb
- کوئی الزام نہ دنیا میں کسی پر رکھنادل لہو ہو بھی تو چہرے کو گل تر رکھناDaud Naseeb
- گزر نہیں ہے کسی کا تو راستہ کیوں ہےجو راستہ ہے تو محروم نقش پا کیوں ہےDaud Naseeb
- نہ جانے کون ہے اور کس کے انتظار میں ہےوہ ایک شخص جو برسوں سے رہ گزار میں ہےDaud Naseeb
- وہ تھے اپنے تو ہر اک دور تھا ہو کر اپنااب نہ تقدیر نہ قسمت نہ مقدر اپناDaud Naseeb
- ہو گیا ہم پہ جو نہ تھا ہونازندگی تجھ سے کیا خفا ہوناDaud Naseeb