پھر اٹھی چشم فسوں ساز خدا خیر کرے

Daud Naseeb

پھر اٹھی چشم فسوں ساز خدا خیر کرے

دل ہے پھر غرق مئے ناز خدا خیر کرے

برق چمکی ہے بصد ناز خدا خیر کرے

پھر نشیمن کا ہے آغاز خدا خیر کرے

دل کے بس میں تھا چھپایا بہت اس نے لیکن

دست مژگاں میں ہے اب راز خدا خیر کرے

کوئی آتا ہے پس قافلۂ فصل بہار

پھر ہے زنجیر کی آواز خدا خیر کرے

برق کی زد میں گلستاں تو نہیں ہے لیکن

گل سے ہے آگ کی پرواز خدا خیر کرے

دل کی دھڑکن تھے جو کل آج وہی دیوانے

ہو گئے دور کی آواز خدا خیر کرے

جانتے ہیں کہ بدلتی نہیں تقدیر نصیبؔ

وقت اور محرم و ہم راز خدا خیر کرے