ہو گیا ہم پہ جو نہ تھا ہونا

Daud Naseeb

ہو گیا ہم پہ جو نہ تھا ہونا

زندگی تجھ سے کیا خفا ہونا

کس قدر ہے برا زمانے میں

آدمی کا ذرا برا ہونا

دو گھڑی کے لئے ترا ملنا

زندگی بھر کا ہے جدا ہونا

اس نے بڑھ کر مجھے سنبھالا ہے

کام آیا شکستہ پا ہونا

رات کٹتی ہے جس کی آنکھوں میں

پوچھئے اس سے صبح کا ہونا

یہ زمانے کی تیز دھوپ نصیبؔ

اور اپنا برہنہ پا ہونا