کوئی الزام نہ دنیا میں کسی پر رکھنا

Daud Naseeb

کوئی الزام نہ دنیا میں کسی پر رکھنا

دل لہو ہو بھی تو چہرے کو گل تر رکھنا

خاک کا ہو کہ ہو کانٹوں کا وہ بستر اے دوست

نیند آ جائے گی تکیہ تو خدا پر رکھنا

کیا خبر راہ میں کب ساتھ خوشی کا چھوٹے

زندگی غم کو بھی ساتھ اپنے برابر رکھنا

دیکھ آنکھوں کی زمیں ہے نہ لرز جائے کہیں

اے تصور تو یہاں پاؤں سنبھل کر رکھنا

زانوئے یار سمجھ کر اسے سو جائیں گے

ہم غریبوں کے سرہانے ذرا پتھر رکھنا

چاہتا ہے یہ مرے دور کا دستور نصیبؔ

تشنگی دل میں تو آنکھوں میں سمندر رکھنا