نہ جانے کون ہے اور کس کے انتظار میں ہے

Daud Naseeb

نہ جانے کون ہے اور کس کے انتظار میں ہے

وہ ایک شخص جو برسوں سے رہ گزار میں ہے

کہاں یہ بات تری فتح شاندار میں ہے

جو بات دوست مری مصلحت کی ہار میں ہے

جو دیکھوں جانب گلشن بھی میں تو کیا دیکھوں

جو تو نہیں ہے تو کیا موسم بہار میں ہے

اندھیرے ہو گئے روشن زباں پہ آتے ہی

وہ آفتاب کی تاثیر ذکر یار میں ہے

یہ تیرا وہم کہ تو بے سکوں نہیں اے دوست

شریک میری تڑپ بھی ترے قرار میں ہے

بغیر نام لئے بھی پکار کر دیکھا

کسی کا نام برابر مری پکار میں ہے

غم حیات سے رونق حیات کی ہے نصیبؔ

کہ پھول پھول ہے جب تک ہجوم خار میں ہے