Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آئیں گے گر انہیں غیرت ہوگیوہ نہ آئے تو قیامت ہوگیبیان میرٹھی
  2. اے جنوں ہاتھ کے چلتے ہی مچل جاؤں گامیں گریبان سے پہلے ہی نکل جاؤں گابیان میرٹھی
  3. بدلنے رنگ سکھلائے جہاں کوکہوں کیا سرمہ کو وسمہ کو پاں کوبیان میرٹھی
  4. چراغ حسن ہے روشن کسی کاہمارا خون ہے روغن کسی کابیان میرٹھی
  5. خاک کرتی ہے برنگ چرخ نیلی فام رقصہر دو عالم کو ترا رکھتا ہے بے آرام رقصبیان میرٹھی
  6. خوں بہانے کے ہیں ہزار طریقرنگ لانے کے ہیں ہزار طریقبیان میرٹھی
  7. سر شوریدہ پائے دشت پیما شام ہجراں تھاکبھی گھر تھا بیاباں میں کبھی گھر میں بیاباں تھابیان میرٹھی
  8. غمزۂ معشوق مشتاقوں کو دکھلاتی ہے تیغصورت ابرو ہمارے سر چڑھی جاتی ہے تیغبیان میرٹھی
  9. فلک نے ابر مرے سینہ کا بخار کیامجھے مجھی پہ ستم گر نے اشک بار کیابیان میرٹھی
  10. کھلا ہے جلوۂ پنہاں سے از بس چاک وحشت کامیں ڈرتا ہوں کہیں پردہ نہ پھٹ جائے حقیقت کابیان میرٹھی
  11. لہو ٹپکا کسی کی آرزو سےہماری آرزو ٹپکی لہو سےبیان میرٹھی
  12. مثل حباب بحر نہ اتنا اچھل کے چلہیں ساتھ ساتھ موج حوادث سنبھل کے چلبیان میرٹھی
  13. وہ دریا بار اشکوں کی جھڑی ہےکہ حوت آسماں تہہ میں پڑی ہےبیان میرٹھی
  14. جو مکتب ایجاد میں داخل ہوگااوج اس کو فروتنی سے حاصل ہوگابیان میرٹھی
  15. آوارۂ حرص در بہ در پھرتا ہےہم سنگ فلاخن پئے زر پھرتا ہےبیان میرٹھی
  16. اسرار جہاں لطیفۂ غیبی ہیںسب عالم تحت و فوق ترکیبی ہیںبیان میرٹھی
  17. افلاس میں کیوں ٹیکس لگا رکھا ہےاسٹام کے جال میں پھنسا رکھا ہےبیان میرٹھی
  18. بیدار نہیں کوئی جہاں خواب میں ہےنیرنگ عجب عالم اسباب میں ہےبیان میرٹھی
  19. پیری کی سپیدی ہے کہ مرتا ہوں میںجوں شمع دم صبح گزرتا ہوں میںبیان میرٹھی
  20. سچ ہے کہ جہاں میں سیر کیا کیا دیکھیمشرق کی طرف برق تجلی دیکھیبیان میرٹھی
  21. کب کوئی فضول ہاتھ ملتا ہے بھلامطلب کہیں اس طرح نکلتا ہے بھلابیان میرٹھی
  22. گرمی امسال کس قیامت کی پڑیایک ایک گھڑی ہوئی قیامت کی گھڑیبیان میرٹھی
  23. ہاں جہل تمہیں سے رنگ لایا پھر کیوںلایا تو گلا زباں پر آیا پھر کیوںبیان میرٹھی
  24. صبح قیامت آئے گی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوںآئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوںبیان میرٹھی
  25. یہ میں کہوں گا فلک پہ جا کر زمیں سے آیا ہوں تنگ آ کرجو اے مسیحا تو ہے مسیحا تو کچھ مرے درد کی دوا کربیان میرٹھی