Poetry
- آہ کرنا دل حزیں نہ کہیںآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
- ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاںیہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاںBekhud Badayuni (1857–1912)
- پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
- جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیںدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- حاصل اس مہ لقا کی دید نہیںعید ہے اور ہم کو عید نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرالاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیراBekhud Badayuni (1857–1912)
- درد دل میں کمی نہ ہو جائےدوستی دشمنی نہ ہو جائےBekhud Badayuni (1857–1912)
- رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
- ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانااللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جاناBekhud Badayuni (1857–1912)
- شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلاہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلاBekhud Badayuni (1857–1912)
- کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنویہ کہانی مری زباں سے سنوBekhud Badayuni (1857–1912)
- کیوں میں اب قابل جفا نہ رہاکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہاBekhud Badayuni (1857–1912)
- گردش چشم یار نے مارادور لیل و نہار نے ماراBekhud Badayuni (1857–1912)
- نالے میں کبھی اثر نہ آیااس نخل میں کچھ ثمر نہ آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
- ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
- یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میراکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میراBekhud Badayuni (1857–1912)