Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ کرنا دل حزیں نہ کہیںآگ لگ جائے گی کہیں نہ کہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  2. اس بزم میں نہ ہوش رہے گا ذرا مجھےاے شوق ہرزہ تاز کہاں لے چلا مجھےBekhud Badayuni (1857–1912)
  3. ان کو دماغ پرسش اہل محن کہاںیہ بھی سہی تو ہم کو مجال سخن کہاںBekhud Badayuni (1857–1912)
  4. پیام لے کے جو پیغام بر روانہ ہواحسد کو حیلہ ملا اشک کو بہانہ ہواBekhud Badayuni (1857–1912)
  5. جس میں سودا نہیں وہ سر ہی نہیںدرد جس میں نہیں جگر ہی نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  6. حاصل اس مہ لقا کی دید نہیںعید ہے اور ہم کو عید نہیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  7. حشر پر وعدۂ دیدار ہے کس کا تیرالاکھ انکار اک اقرار ہے کس کا تیراBekhud Badayuni (1857–1912)
  8. درد دل میں کمی نہ ہو جائےدوستی دشمنی نہ ہو جائےBekhud Badayuni (1857–1912)
  9. رقیبوں کا مجھ سے گلا ہو رہا ہےیہ کیا کر رہے ہو یہ کیا ہو رہا ہےBekhud Badayuni (1857–1912)
  10. ساتھ ساتھ اہل تمنا کا وہ مضطر جانااللہ اللہ ترا بزم سے اٹھ کر جاناBekhud Badayuni (1857–1912)
  11. شکوہ سن کر جو مزاج بت بد خو بدلاہم نے بھی ساتھ ہی تقریر کا پہلو بدلاBekhud Badayuni (1857–1912)
  12. کبھی حیا انہیں آئی کبھی غرور آیاہمارے کام میں سو سو طرح فتور آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
  13. کیوں مرا حال قصہ خواں سے سنویہ کہانی مری زباں سے سنوBekhud Badayuni (1857–1912)
  14. کیوں میں اب قابل جفا نہ رہاکیا ہوا کہیے مجھ میں کیا نہ رہاBekhud Badayuni (1857–1912)
  15. گردش چشم یار نے مارادور لیل و نہار نے ماراBekhud Badayuni (1857–1912)
  16. نالے میں کبھی اثر نہ آیااس نخل میں کچھ ثمر نہ آیاBekhud Badayuni (1857–1912)
  17. ہیں وصل میں شوخی سے پابند حیا آنکھیںاللہ رے ظالم کی مظلوم نما آنکھیںBekhud Badayuni (1857–1912)
  18. یوں ہی رہا جو بتوں پر نثار دل میراکرے گا مجھ کو زمانے میں خوار دل میراBekhud Badayuni (1857–1912)