Poetry
- اس طرح پی کے وہ شراب چلےجوش میں اپنے جیسے آب چلےBal Mukund Besabr (1812–1885)
- انتہا ضعف کی ہے صاف نمایاں مجھ سےرمق جاں میں مرا جسم ہے پنہاں مجھ سےBal Mukund Besabr (1812–1885)
- بہار آئے عنادل نے مل خروش کیابدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیاBal Mukund Besabr (1812–1885)
- تجھ سا نہیں جہان میں خوں ریز دوسراپیدا ہوا کہاں سے تو چنگیز دوسراBal Mukund Besabr (1812–1885)
- تو خفا مجھ سے ہوا کیا باعثجرم کیا مجھ سے ہوا کیا باعثBal Mukund Besabr (1812–1885)
- خواب میں بھی نہ یہ خیال ہواکہ مرا یار سے وصال ہواBal Mukund Besabr (1812–1885)
- کعبۂ دل میں رونما ہیں آپبخدا بت نہیں خدا ہیں آپBal Mukund Besabr (1812–1885)
- گر دوست بھی سو جفا کرے گادشمن بیچارہ کیا کرے گاBal Mukund Besabr (1812–1885)
- نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھاسماں جو دل کے کاشانے میں دیکھاBal Mukund Besabr (1812–1885)
- نہ گیا مر کے بھی نظروں میں سمانا اپناگور نے مردم دیدہ مجھے جانا اپناBal Mukund Besabr (1812–1885)
- یا ستم کر یا کرم چاہے سو کرچاہتے ہیں تجھ کو ہم چاہے سو کرBal Mukund Besabr (1812–1885)
- رخصت ہوا وہ اشک ہمارے نکل آئےخورشید کے چھپتے ہی ستارے نکل آئےBal Mukund Besabr (1812–1885)
- مدعا گر ہے تو یہ ہے عاشق دلگیر کااشک میں ہونا اثر کا آہ میں تاثیر کاBal Mukund Besabr (1812–1885)