Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس طرح پی کے وہ شراب چلےجوش میں اپنے جیسے آب چلےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  2. انتہا ضعف کی ہے صاف نمایاں مجھ سےرمق جاں میں مرا جسم ہے پنہاں مجھ سےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  3. بہار آئے عنادل نے مل خروش کیابدن میں خوں نے صراحی میں مے نے جوش کیاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  4. تجھ سا نہیں جہان میں خوں ریز دوسراپیدا ہوا کہاں سے تو چنگیز دوسراBal Mukund Besabr (1812–1885)
  5. تو خفا مجھ سے ہوا کیا باعثجرم کیا مجھ سے ہوا کیا باعثBal Mukund Besabr (1812–1885)
  6. خواب میں بھی نہ یہ خیال ہواکہ مرا یار سے وصال ہواBal Mukund Besabr (1812–1885)
  7. کعبۂ دل میں رونما ہیں آپبخدا بت نہیں خدا ہیں آپBal Mukund Besabr (1812–1885)
  8. گر دوست بھی سو جفا کرے گادشمن بیچارہ کیا کرے گاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  9. نہ کعبے میں نہ بت خانے میں دیکھاسماں جو دل کے کاشانے میں دیکھاBal Mukund Besabr (1812–1885)
  10. نہ گیا مر کے بھی نظروں میں سمانا اپناگور نے مردم دیدہ مجھے جانا اپناBal Mukund Besabr (1812–1885)
  11. یا ستم کر یا کرم چاہے سو کرچاہتے ہیں تجھ کو ہم چاہے سو کرBal Mukund Besabr (1812–1885)
  12. رخصت ہوا وہ اشک ہمارے نکل آئےخورشید کے چھپتے ہی ستارے نکل آئےBal Mukund Besabr (1812–1885)
  13. مدعا گر ہے تو یہ ہے عاشق دلگیر کااشک میں ہونا اثر کا آہ میں تاثیر کاBal Mukund Besabr (1812–1885)