Poetry
- اک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میںمقام اپنا بنا سکتا ہوں کلام سے میںBabar Zuhrab
- دل سے تمہاری یاد گزارا کروں گا میںتنہائی میں بھی تم کو پکارا کروں گا میںBabar Zuhrab
- سفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کوابھی تیری محبت کا سہارا چاہیے مجھ کوBabar Zuhrab
- کاسے میں اپنے چاند ستارے لیے ہوئےدرویش چل رہا ہے خسارے لیے ہوئےBabar Zuhrab
- کس پہ کھلتا ہے بانکپن اس کاہے تراشا ہوا بدن اس کاBabar Zuhrab
- کوئی تعبیر مرے خواب میں در آئی ہےجل پری جس طرح تالاب میں در آئی ہےBabar Zuhrab
- مری نگاہ نئی آب و تاب دیکھتی ہےکبھی ستارہ کبھی ماہتاب دیکھتی ہےBabar Zuhrab
- نہ کوئی صبح کا منظر نہ شام کی تصویرسکوت کھینچ رہا ہے کلام کی تصویرBabar Zuhrab
- ہجر کا آئنہ نہ ہو جاناخود سے مل کر جدا نہ ہو جاناBabar Zuhrab
- ہماری آنکھ میں منظر تمھارے روشن ہیںکہ جیسے نیلے فلک پر ستارے روشن ہیںBabar Zuhrab